Wednesday, June 17, 2026
 

امن کی امید

 



آخرکار ایک بے کار جنگ جس کو غلط اندازوں کی بنیاد پر 28 فروری کو شروع کیا گیا تھا اسے چھ اپریل کو دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر ختم کیاگیا۔ اس جنگ بندی کو مختلف مواقع پہ آ گے بڑھایا جاتا رہا آخر کار دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے کے بعد مذاکرات کو آگے بڑھانے کے ایک وسیع فریم ورک کی تیاری کے بعد دو ماہ کی مزید جنگ بندی میں بدل دیاگیا ہے۔دو ماہ سے زیادہ کا یہ عرصہ دوبارہ جنگ شروع ہونے کے خوف اور مکمل امن قائم ہونے کی امید کے درمیان ہچکولے کھاتے گزرا تھا اور اب اگلے دو ماہ بھی اسی طرح گزریں گے۔ ساری دنیا جو اس بیکار جنگ سے متاثر ہو رہی ہے اس کو آبنائے ہرمز کے کھلنے اور اس کی ناکہ بندی ختم ہونے پر سکھ کا سانس لینا نصیب ہوگا۔ اس جنگ میں جہاں ایران نے اپنے سے کئی گنا بڑی فوجی قوت جسے دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت ہونے کا زعم تھا کو محض اپنی قوت برداشت سے ناکام کیا اور وہ جنگ کے مقاصد حاصل نہ کر سکی بلکہ اس کا سب سے بڑی اور ناقابل شکست فوجی قوت ہونے کا بھرم بھی کرچی کرچی ہو گیا۔ اس پر ایران بجا طور پراپنی فتح کے ڈنکے بجائے گا مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ جنگ روس اور چین کی مدد سے لڑی گئی ہے اور اس جنگ کا فائدہ بھی ایران کے ساتھ ساتھ روس اور چین کو ہوگا۔ چنگ بظاہر تو ختم ہو گئی ہے مگر اس کے اثرات بہت عرصہ تک رہیں گے۔ اس جنگ میں پاکستان تو دو دھاری تلوار کی زد میں تھا اس کی جغرافیائی سرحدوں سمیت اس کی معیشت کو جو خطرات درپیش تھے وہ اب دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور درپردہ اصل کردار ادا کرنے والے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس صفائی سے پاکستان کو اس صورتحال سے نکالا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت میں مثالی ہم آہنگی نظر آئی۔ پاکستان جنگ کو رکوانے کے عمل میں جنگ سے پہلے اور جنگ کے بعد سرگرم رہا۔پاکستان نے بہت کوشش کی کہ جنگ نہ ہو مگر اسرائیل کے نیتن یاہو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے جال میں بھنسانے میں کامیاب رہے۔ لیکن جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ ان کو استعمال کر کے ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے جس سے وہ جلد نہ نکلے تو ان کی سیاسی زندگی اور امریکا کے سپر پاور ہونے کے کردار کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ خیال آتے ہی انھیں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے اور پاکستان کے اندازوں کا خیال آیا ہوگا اور اسی لیے انھوں نے پاکستان ہی کو امن کے لیے اپنا ساتھی چنا اور ایران امریکا مذاکرات شروع کروانے کا مشکل کام فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کے حوالے سے پاکستان کو سونپ دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خصوصی طور پر اور پاکستان کی حکومت کے رہنماؤں جن میں شہباز شریف اسحاق ڈار اور محسن نقوی شامل ہیں ، نے متحرک کردار ادا کیا اور جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس وقت امریکا ایران ساٹھ دن کی جنگ بندی، آبنائے ہرمز کھولنے اور چند اور معاملات پر اتفاق رائے کے ساتھ ساتھ مزید مذاکرات کے ایک بنیادی فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں۔ امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی ہے اور ایران بھی آبنائے ہرمز کھولنے پر تیار ہو چکا ہے یوں تیل کے بحران کے ختم ہونے اور دنیا بھر کی معیشتوں میں بہتری کی امید ابھری ہے۔ اس فریم ورک کی ابھی تک حتمی منظوری تو نہیں ہوئی لیکن دونوں ملک ایک دوسرے کو یقین دہانیاں کروا چکے ہیں لیکن عوامی رائے عامہ کے منفی رد عمل کو سامنے رکھتے ہوئے اس فریم ورک میں طے شدہ معاملات آہستہ آہستہ سامنے لائیں گے مگر یہ بات اب طے سمجھی جانی چاہیے کہ جنگ کے بادل چھٹ رہے ہیں۔ حالات کے بگاڑ کی تلوار اور پہلے کی طرح رواں رکھے گئے پاگل پن کا خوف حتمی معاہدہ ہو جانے تک برقرار رہے گا، اس لیے ضروری ہے کہ یہ مرحلہ جلد طے کیا جائے اور اس دو ماہ کی جنگ بندی کے اختتام تک نہ لے جایا جائے۔ اس جنگ سے پٹرولیم مصنوعات کی کمی اور اس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے جس مہنگائی کو جنم دیا ہے امید ہے اس بحران کے حل کے ساتھ وہ بھی کافی حد تک ختم ہو جائے گی اور حالات معمول پر آ جائیں گے اور دنیا بھر کی معیشتوں کو سنبھالا ملے گا، پاکستان کی کوششوں کی اب دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے۔ صدر امریکا تو اپنے ہر بیان میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان کی تعریف کرنا نہیں بھولتے۔ میں یہاں انھیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یوکرین میں جنگ ختم کروانے کی ان کی کوششوں اور پاکستان بھارت جنگ بندی کروانے پر انھی دو شخصیات نے پاکستان کی طرف سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا۔ اگر غزہ کی جنگ نہ ہوتی تو شاید ڈونلڈ ٹرمپ یہ انعام حاصل کر لیتے مگر غزہ جنگ اور اس میں ہونے والے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی اسرائیل کے ہاتھوں پامالی نے ان کو اس سے محروم کیا لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کے اس احسان کا بدلہ ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان یا زیادہ بہتر طور پر پاکستان کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کر کے چکا سکتے ہیں۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ دنیا بھر سے اس کو تائید ملے گی پاکستان اور اس کی قیادت خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر بجا طور پر اس کے حقدار ہیں۔ پاکستان بھارت جنگ میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہونے کے باوجود جنگ بندی قبول کر کے اور اب امریکا ایران جنگ بندی میں متحرک کردار ادا کرکے انھوں نے اپنی امن پسندی کا ثبوت دے دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پسندیدگی اور دوستی کا اتنا سا بھرم تو رکھ سکتے ہیں انھیں فوری طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا چاہیے۔ امریکا ایران جنگ ختم ہونے کے بعد ابھرنے والی ملٹی پولر دنیا میں جہاں چین امریکا روس جیسی سپر پاورز دنیا کو آگے لے جائیں گی وہیں فرانس برطانیہ جرمنی پاکستان ایران سعودی عربیہ اور ترکی بھی معاملات کو بہتر کرنے اور دنیا کے تنازعات کو حل کرنے میں کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہاں دو ملک بھارت اور اسرائیل جو اس تاریخی تبدیلی کے عمل میں غلط سمت پر موجود ہیں انھیں یا تو اپنے کردار کو بدلنا ہوگا اور تاریخ کی صحیح سمت میں آنا ہوگا۔ ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعہ کو وہاں کے عوام کی مرضی سے طے کریں ورنہ تاریخ کا کوڑے دان ان کا مقدر ہے۔ میں یہاں دنیا بھر کی مقتدر اشرافیہ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اس امن کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہیں۔ جس طرح دنیا بھر کے عوام نے اس بحران کا حوصلے اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا ہے اور اپنی حکومتوں کا ساتھ دیا ہے تو اب حکومتوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کو موجودہ حالات سے نبرد آزما ہونے میں مدد دیں اور انھیں امن کے ثمرات پہنچائیں۔ پاکستانی عوام نے جس طرح سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر حکومت کے ہاتھ مضبوط کیے تھے تو اب حکومت کو بھی چاہیے امن کے ثمرات عوام تک پہنچائے اور ان کی زندگی میں ان کے لیے سہولتیں پیدا کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل