Thursday, June 18, 2026
 

معرکہ حق میں بھارت کی شکست کے اثرات عالمی سطح پر رونما ہونے لگے

 



معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار فتح کی بدولت، بھارت کی اصلی حیثیت دنیا کے سامنے واضح ہوگئی ہے۔ بھارت اپنی حیثیت سے بڑھ کر جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کا بیڑہ اٹھانے کا خواہشمند تھا۔ انڈیا جھوٹ اور فریب پر مُشتمل اپنی حیثیت کی تشہیر کرتا رہا جسے امریکا سمیت دیگر مغربی ممالک نے سچ مان لیا، اِسی جھوٹی حیثیت پر انحصار کرتے ہوئے امریکا نے انڈیا کو نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر کے طور پر دیکھنا شروع کیا۔ معرکہ حق نے بھارت کی اصلیت سب کے سامنے کھول کر رکھ دی جبکہ پاکستان اپنے مؤثر علاقائی کردار اور اسٹریٹجک اہمیت کے باعث عالمی منظر نامے میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ یو ایس پیسیفک کمانڈ کی پریس ریلیز کے مطابق امریکی محکمہ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ سے انڈو کا لفظ ہٹا کر پرانا نام یو ایس پیسیفک کمانڈ بحال کر دیا ہے۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین سواہنی نے انڈو پیسیفک کمانڈ کے نام کی تبدیلی کو بھارت کے لیے بڑا دھچکا قرار دے دیا۔ پراین سواہنی کا کہنا تھا کہ یہ غیر معمولی پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ امریکا کے پاس جنوبی ایشیا میں بھارت کے لیے کوئی سیاسی جغرافیائی استعمال باقی نہیں رہا، امریکی فیصلے کے بعد جنوبی ایشیا میں چین اور پاکستان کا جغرافیائی، معاشی اور عسکری اثرورسوخ مزید بڑھے گا۔ بھارت کے امریکا کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں جس کے باعث ٹرمپ بھاری ٹیرف بھی عائد کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق معرکہ حق کے بعد امریکا کو یہ بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ چین کے مقابلے میں بھارت کی عسکری حیثیت اور عملی استعداد اس کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ عالمی دنیا یہ جان چکی ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت نہ تو پاکستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور نہ ہی اسے اپنی مرضی کے فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے یو ایس پیسیفک کمانڈ کے نام کی بحالی نے بھارت کے نام نہاد نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کے بیانیے کو زمین بوس کر دیا ہے، یہ بات انتہائی اہم ہے کہ 2018 میں کیے جانے والے اقدام کی واپسی بھارت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ ناموں کی تبدیلی محض علامتی اقدام نہیں ہوتی بلکہ یہ مستقبل کی حکمت عملی، جغرافیائی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاس ہوتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل