Loading
لبنان کے جنوبی شہر صور کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں شدید زخمی ہونے والی بحری ماحولیات کی ماہر اور نایاب سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے سرگرم مونا خلیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 77 سالہ مونا خلیل گزشتہ ہفتے اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوگئی تھیں اور گزشتہ شب دوران علاج دم توڑ گئیں۔
ماحولیاتی تنظیم لائیو لو ٹائر نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مونا خلیل نے اپنی پوری زندگی جنوبی لبنان کے سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ ان کی زندگی بے لوث خدمت اور مثبت اثرات کی علامت تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ وہ ایک عظیم ورثہ چھوڑ کر گئی ہیں۔ تمام مشکلات کے باوجود مونا نے اپنے علاقے اور کچھوؤں کی حفاظت کا مشن نہیں چھوڑا۔
نایاب کچھوؤں کے تحفظ کے لیے دو دہائیوں پر محیط جدوجہد
مونا خلیل 1949 میں نائجیریا کے شہر لاگوس میں پیدا ہوئیں۔ کئی برس بیرون ملک گزارنے کے بعد وہ جنوبی لبنان منتقل ہوئیں۔
1999 میں المنصوری ساحل پر ایک مادہ سمندری کچھوے کو انڈے دیتے دیکھنا ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا جس کے بعد انھوں نے اپنی زندگی خطرے سے دوچار سمندری حیات کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔
لبنان کے جنوبی ساحل پر پائے جانے والے لاگرہیڈ اور سمندری سبز کچھوؤں کی نسل کو ساحلی تعمیرات، پلاسٹک آلودگی، ماہی گیری کے جال اور مصنوعی روشنی کے باعث معدومی کے شدید خطرات لاحق تھے۔
جس پر مونا خلیل نے اس سمندری حیات کی افزائش گاہوں کے تحفظ کے لیے دو دہائیوں سے زائد عرصہ دن و رات کام کیا۔ آگاہی پیدا کی اور ان کی نسل کو معدومی کے خطرے سے بچایا۔
ماحولیات اور جنگلی حیات کے لیے خدمات
سن 2000 میں مونا خلیل نے المنصوری ساحل پر اورنج ہاؤس کے نام سے ایک ماحولیاتی سیاحت (ایکو ٹورازم) منصوبے کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
انھوں نے جنوبی لبنان کی سمندری حیات پر تحقیق، جنگلی حیات کے تحفظ اور ساحلی آلودگی کے خلاف مسلسل آواز بلند کی۔
ان کی قریبی ساتھی، صحافی اور رضاکار فادیہ جمعہ نے سوشل میڈیا پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ آپ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئیں، لیکن آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مونا خلیل کی وفات صرف ان کے ساتھیوں ہی نہیں بلکہ پورے لبنان کے لیے ایک بڑا نقصان ہے کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی قدرتی حیات کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل