Saturday, June 20, 2026
 

یوکرین کے بڑے ڈرون حملے میں روس کی آئل ریفانری تباہ؛ ایندھن کا شدید بحران پیدا ہوگیا

 



یوکرین نے روسی دارالحکومت ماسکو پر جنگ کے آغاز سے اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک میں اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد شہر کے جنوب مشرقی علاقے میں کئی گھنٹوں تک آگ اور سیاہ دھوئیں کے بادل چھائے رہے۔ ریفائنری تباہ ہوگئی اور پیداواری صلاحیت صفر رہ گئی۔ ملک سب سے اہم اور بڑی آئل ریفائنری کے بند ہوجانے سے روس میں ایندھن کی قلت مزید بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روس کے میئر سرگئی سوبیانین نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے سیکڑوں یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا لیکن متعدد ڈرون ماسکو کی گیزپروم نیفٹ آئل ریفائنری تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ یہ ریفائنری ماسکو اور اس کے گرد و نواح کے لیے پٹرول اور دیگر ایندھن کی فراہمی کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہے اور خطے کی تقریباً ایک تہائی ضروریات پوری کرتی ہے۔  عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد ریفائنری سے اٹھنے والا سیاہ دھواں کئی کلومیٹر دور سے دیکھا گیا، جبکہ قریبی رہائشی علاقوں، شاپنگ سینٹرز اور رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ماسکو ریجن کے گورنر نے بھی تصدیق کی کہ یوکرین کے اس حملے میں ایک آٹھ سالہ بچی ہلاک ہوئی جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ ادھر یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ روس کی مسلسل بمباری اور جنگ کو طول دینے کا منصفانہ جواب ہے۔ ان کے بقول ماسکو سے تقریباً 500 کلومیٹر دور موجود اس ریفائنری کو نشانہ بنا کر یوکرین نے اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب روسی حکام نے یوکرین پر دہشت گردانہ حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روسی فوج یوکرین کے فوجی اور دفاعی صنعتی اہداف پر مزید شدید حملے جاری رکھے گی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی حملوں کے نتائج یوکرین پر کہیں زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔  آج بھی روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ یوکرین نے دعویٰ کیا کہ اس نے روس کے 99 میں سے 92 ڈرون مار گرائے جبکہ روس نے مغربی سائبیریا کے تیومن آئل ریفائنری پر یوکرینی ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان دوبارہ جنگ فروری 2022 میں شروع ہوئی تھی جو تاحال جاری ہے اور دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل