Sunday, June 21, 2026
 

کئی اسٹار کرکٹرز کے کنٹریکٹ ہولڈ پر رہنے کا امکان

 



ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچز میں عدم شرکت پر کئی اسٹار کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ ہولڈ پر رہنے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ سابقہ کنٹریکٹس میں بھی پلیئرز کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا ضروری تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، سسٹم سب سے زیادہ اہم ہے، سب کو اسے اہمیت دینا ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ جب تک کوئی کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ میچز کھیلنے کی شرط پوری نہ کرے یا میڈیکل کلیئرنس نہ لے اس کا معاہدہ ہولڈ پر رہے گا، اس دوران معاوضہ نہیں دیا جائے گا، پھر جب شرط پوری ہوگئی تو اسے بقایاجات بھی ملیں گے۔ یاد رہے کہ بابر اعظم اور شاہین آفریدی بھی کم از کم فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کی اہلیت پر پورا نہیں اترتے۔ عاقب جاوید نے کہا کہ سنیارٹی اور نام پر کسی کو کنٹریکٹ نہیں ملے گا، ڈیٹا کی بنیاد پر انتخاب کیا جائے گا، امپیکٹ کو ترجیح دی جائے گی، فٹنس کی بھی بہت اہمیت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اے کنٹریکٹ میں ٹیسٹ اسپیشلسٹ کی پرفارمنس اسی فارمیٹ کے لحاظ سے دیکھی جائے گی، اس میں 6 سے 8 ٹاپ پرفارمرز شامل ہو سکتے ہیں، ان کے لیے کم از کم 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلنا ضروری ہیں، ٹیسٹ کی فی میچ 15 لاکھ روپے ہے، انھیں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس میچ میں آدھی فیس یعنی ساڑھے 7 لاکھ روپے ملیں گے، ان کو لیگز کھیلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عاقب جاوید نے کہا کہ ٹاپ پرفارمر ٹیئر ون دیگر ٹو میں ہوں گے، ایسے پلیئرز جو ٹیسٹ اور ون ڈے کھیلتے ہیں وہ اے بی میں شامل ہوں گے، اس کی ویلیو اور معاوضے سب سے زیادہ ہیں، اس میں بھی دو درجات ہوں گے، ان کو چار ڈومیسٹک فرسٹ کلاس اور اتنے ہی ون ڈے میچز لازمی کھیلنے ہوں گے، ان کو بھی ڈومیسٹک میچز میں آدھی انٹرنیشنل میچ فیس ملے گی، یہ پلیئرز سال میں ایک لیگ کھیل سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کو بی سی معاہدہ ملے گا،اس میں بھی ٹیئر کے لحاظ سے ون اور ٹو میں پلیئرز شامل ہوں گے، ان کو سیزن میں کم از کم 2 فرسٹ کلاس، 4 ڈومیسٹک ون ڈے اور 6 ٹی ٹوئنٹی میچز لازمی کھیلنا ہوں گے، ان کو سال میں 2 لیگز کے اجازت نامے ملیں گے۔ عاقب جاوید نے بتایا کہ سی کیٹیگری میں ٹی 20 اسپیشلسٹ پلیئرز موجود ہوں گے لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں ہو گی، ان کی ریٹینر فیس سب سے کم لیکن وہ جتنی لیگز کھیلنا چاہیں کھیل سکیں گے، البتہ نیشنل ڈیوٹی کی صورت میں لیگز کی اجازت نہیں ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل