Loading
نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی ایک غیر معمولی سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے غیر معینہ مدت تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر درجنوں نوجوان گزشتہ کئی روز سے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے، امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
اس تحریک کی قیادت ابھیجیت ڈپکے کر رہے ہیں، جو حال ہی میں امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھارت واپس آئے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ پوسٹ کے ذریعے اس تحریک کا آغاز کیا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے عوامی اور سیاسی رجحان میں تبدیل ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کے چیف جسٹس کے ایک بیان کے بعد، جس میں نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ سے تشبیہ دی گئی تھی، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسی پس منظر میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ وجود میں آئی اور نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے لگی۔
تحریک کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ بھارت میں تعلیمی نظام مسلسل بحران کا شکار ہے۔ حالیہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ سمیت کئی اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے، جس کے باعث لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 17 لاکھ طلبہ نے دوبارہ امتحان دیا، تاہم کئی نوجوانوں نے احتجاج جاری رکھنے کو ترجیح دی۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق امتحانی تنازع کے بعد مختلف شہروں میں متعدد طلبہ کی خودکشیوں کی خبریں بھی سامنے آئیں، جس کے بعد وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے۔
احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک وزیر تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے۔ دوسری جانب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تاہم احتجاج جاری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل