Loading
ادویاتی علوم میں شاید آئندہ صدی کی سب سے بڑی دریافت کوئی نئی دوا نہیں بلکہ یہ سمجھ ہوگی کہ ہر مریض دراصل الگ اور جدگانہ حیاتیاتی رویہ ہے۔ پہلی نظر میں یہ جملہ مبالغہ معلوم ہوتا ہے۔ آخر انسان تو ایک ہی نوع کے افراد ہیں۔ ہمارے اعضا تقریباً یکساں ہیں، بیماریوں کے نام بھی ایک جیسے ہیں اور ادویات بھی عموماً سب کے لیے مشترک ہوتی ہیں۔ پھر ایک مریض کو منفرد کہنا کس حساب سے درست ہے؟
اس سوال کا جواب جدید حیاتیات اور ادویاتی علوم کی حالیہ پیش رفت میں پوشیدہ ہے۔ آج تک طب کی کامیابی کا راز عمومی اصولوں میں تھا۔ بخار ہو تو یہ دوا، انفیکشن ہو تو وہ اینٹی بائیوٹک، بلڈ پریشر ہو تو فلاں علاج۔ یہ طریقہ آج بھی بے حد مؤثر ہے اور یقیناً مستقبل میں بھی رہے گا۔ لیکن سائنس جوں جوں انسانی جسم کے اندر گہرائی میں اتر رہی ہے، ایک حیران کن حقیقت سامنے آرہی ہے کہ ایک ہی بیماری دو مختلف افراد میں دراصل ایک جیسی بیماری نہیں ہوتی۔
فرض کیجیے دو مریض ADHD میں مبتلا ہیں۔ دونوں کی عمر تقریباً برابر ہے، علامات بھی ملتی جلتی ہیں اور دونوں کو ایک ہی دوا تجویز کی جاتی ہے۔ چند ہفتوں بعد ایک بچے کی توجہ، تعلیمی کارکردگی اور رویّے میں واضح بہتری آجاتی ہے جبکہ دوسرے میں اثر محدود رہتا ہے یا مضر اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں۔ دوا ایک ہی تھی، بیماری کا نام بھی ایک ہی تھا مگر نتیجہ مختلف نکلا۔
اسی طرح کینسر کے مریضوں میں بھی اس صورتحال کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ پھیپھڑوں کے کینسر کے دو مریض بظاہر ایک ہی بیماری رکھتے ہیں لیکن اگر ان کے ٹیومر کے جینیاتی تجزیے کیے جائیں تو معلوم ہوسکتا ہے کہ بیماری کو چلانے والے حیاتیاتی عوامل مختلف ہیں۔ بعض صورتوں میں ایک مخصوص دوا ایک مریض میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتی ہے جبکہ دوسرے میں تقریباً بے اثر ثابت ہوتی ہے۔ یہ فرق اتفاق نہیں۔ اس کے پیچھے جینیات، مدافعتی نظام، خلیاتی سگنلز، جسم میں ادویات کو توڑنے والے خامرے، آنتوں میں موجود لاتعداد جرثومے، ماحول، خوراک، عمر اور درجنوں دیگر عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب سائنس بیماریوں کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر سمجھتی تھی۔ اب معلوم ہو رہا ہے کہ انسانی جسم ایک پیچیدہ جال ہے جس میں ہزاروں حیاتیاتی راستے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دوا ان راستوں میں سے کسی ایک پر اثر ڈالتی ہے لیکن اس اثر کا حتمی نتیجہ پورے نظام کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید طب میں ’’پریسیژن (درست) میڈیسن‘‘ یا ’’پرسنلائز (انفرادی) علاج‘‘ کا تصور ابھر رہا ہے۔ اس کا مقصد ہر مریض کے لیے الگ دوا بنانا نہیں بلکہ ہر مریض کی حیاتیاتی خصوصیات کو مدنظر رکھ کر بہتر علاج کا انتخاب کرنا ہے۔
اس افق پر مصنوعی ذہانت ایک نئی قوت کے طور پر ابھری ہے۔ انسان لاکھوں مریضوں کے جینیاتی، طبی اور ادویاتی ریکارڈز کو بیک وقت نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن کمپیوٹر ایسے نمونوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں جو انسانی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت یہ پیش گوئی کرنے میں مدد دے رہی ہے کہ کون سا مریض کسی دوا سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے اور کس میں مضر اثرات کا امکان زیادہ ہے۔ اس تمام پیش رفت کے باوجود انتہائی احتیاط لازمی بھی ہے اور ضروری ہے۔ ابھی سائنس اس مقام پر نہیں پہنچی کہ ہر مریض کے علاج کی مکمل اور یقینی پیش گوئی کرسکے۔
انسانی حیاتیات اس قدر پیچیدہ ہے کہ غیر یقینی صورتحال ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک موجود رہے گی۔ لیکن آج کا اہم فرق یہ ہے کہ ہم اس پیچیدگی کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید مستقبل کی سب سے بڑی تبدیلی یہی ہوگی کہ ڈاکٹر بیماری کا نام سن کر علاج شروع نہیں کرے گا بلکہ پہلے یہ سمجھے گا کہ یہ بیماری اس مخصوص مریض میں کس حیاتیاتی راستے سے ظاہر ہو رہی ہے۔ یہ سوچ طب کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہی ہے۔ بیماری کے بجائے مریض مرکزِ توجہ بنتا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے عشروں میں طب کی سب سے بڑی کامیابی کوئی نئی گولی، نیا انجکشن یا نئی مشین نہ ہو۔ شاید اصل انقلاب یہ ادراک ہو کہ ہر شخص ایک منفرد حیاتیاتی نظام کے ساتھ ہے، ایسا نظام جس کی تاریخ، جینیات، ماحول اور حیاتیاتی تعاملات اسے دوسروں سے مختلف بناتے ہیں۔ اور شاید اسی حقیقت سے ہر مریض واقعی ایک الگ حیاتیاتی کائنات ہے۔
جدید علم الادویہ و طب کا سفر دوا و بیماری کو سمجھنے سے انسان کو سمجھنے کی طرف بڑھ رہا ہے، شاید صحت کا راز نئی ادویات میں نہیں بلکہ مریض کی انفرادیت کو پہچاننے میں پوشیدہ ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل