Loading
ہم نے آپ سے ایک دریا کا ذکر کیا تھا کہ ایک ہی دریا میں دو الگ الگ رنگوں کے دھارے بہتے ہیں۔ایک صاف شفاف سفید رنگ کا اور دوسرا مٹیالا رنگ( مٹی جیسا رنگ) کا۔ وہ دریا ویسے تو معاشرے کی ہر پرت اور ہر جگہ بہتا ہے ، یہ ہمارے گاؤں کے درمیان میں بہتا ہے تاہم ہماری مسجد میں یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا بہتا ہے۔
سفید دھارا ان امیر لوگوں کا ہوتا ہے جو پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں، یہ طبقہ دل کھول کر چندے دیتا ہے اور مسجد کے معاملات ان کی مرضی سے طے ہوتے ہیں اور دوسرا وہ مٹیالا دھارا یعنی غربااور عامیوں کا جو آخری صف میں کھڑا ہوتا ہے، چندہ نہیں دے سکتا ہے، اس لیے مسجد کو صفاف ستھرا رکھنا اس کی ذمے داری ہے ، صفیں بچھانا،دیکھ بھال کرنا، کوئی ہاتھ پیروں کا کام ہو تو وہ بھی کرنا۔نماز کے بعد پہلی صف والا دھارا تو وہیں پنکھے کے نیچے بیٹھ کر کچھ ذکر فکر وظائف وغیرہ کے بعد قیمتی تسبیح ہاتھوں میں لے کر بات چیت شروع کرتا ہے اور آخری صف والے ایک کونے میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے اپنا حال احوال بیان کرتے ہیں۔ اس دھارے میں میں بھی ہوں ، کسان ابن کسان ابن کسان۔دوسرے شرکاء میں مزدور، معمار، مستری، بڑھئی یعنی ترکھان، لوہاریعنی آہن گر، ڈرائیور اور مختلف پیشہ ور ہوتے ہیں۔
ہمارا درد مشترک یہ ہے کہ ہم بوڑھے اور ازکار رفتہ ہوچکے ہیں اور بچوں کے رحم وکرم پر ہیں، وہ خود بھی ہماری طرح محنت کش ہیں، اس لیے ہمیں یوں پالتے ہیں،جیسے بیگار کررہے ہوں چنانچہ ہم سب اکٹھے ہوکر اپنا دکھ درد بھی بیان کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو ان صدقات و خیرات کے بارے میں بتاتے ہیں جو حکومت،سیاسی پارٹیاں اور مخیر حضرات اپنا مال حلال کرنے کے لیے دان کرتے ہیں یا ووٹ خریدنے کے لیے ووٹرز کو دیتے ہیں۔
سفید دھارے والوں میں اکثر سرکاری ملازم یا افسر رہے ہیں، کرسیوں پر بیٹھ کر’’سروس‘‘ کرچکے ہیں، بڑی بڑی تنخواہیں لیتے رہے ہیں، ساتھ ہی’’سرکاری ملازم‘‘ کی ساری مراعات بھی اور وہ بھی جوکسی زمانے میں کرپشن کہلاتی تھی لیکن آج کل ’’یہ سب تیرا کرم ہے ‘‘کہا جاتا ہے، پھر بیس تیس سال یہی’’سروس‘‘ کرنے کے بعد روپوں کا ایک بڑا تھیلا لاکر گھر میں پھینکتے ہیں، اپنی اولاد کو اپنی یا کسی اور عہدے والی کرسی پر بٹھاتے ہیں اور’’پینشن‘‘ کا حساب کرتے ہیں، جائیدادیں بھی بنا چکے ہیں، کاروبار بھی کرتے ہیں چونکہ سرکاری ہوتے ہیں، اس لیے سگے ہوتے ہیں، اس طرح’’دنیا‘‘ میں کامیاب ہوکر اب آخرت میں لگژری سہولیات کے تصور میں مصروف رہتے ہیں۔
حج عمرے بھی کرچکے ہیں۔ہم خداماروں کے ٹولے میں اکثر یہ بات زیر بحث آتی ہے کہ وہ تو ٹھنڈے دفتروں ،آرام دہ کرسیوں میں بیٹھ کر اور کاغذات ادھر ادھر کرکے’’سروس‘‘ کرتے رہے ہیں۔لیکن ہم جو مٹی میں لت پت ہوکر مٹی ہوجاتے ہیں، اپنا خون پسینہ بہاکر چلچلاتی دھوپ اور کڑکڑاتی سردیوں میںکھیتی کرتے ہیں، اناج اگاتے رہے، سب کو کھلاتے رہے ہیں، بلندو بالا عمارتیں تعمیر کرتے رہے ہیں اور کارکن مکھیوں کی طرح ان نکھٹووں کو پالتے رہے ہیں، کیا وہ’’سروس‘‘ نہیں تھی؟ اگر سروس نہیں تھی تو پھرکیا تھی؟
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا
پشتو میں ایک کہاوت ہے ’’دھرم سالہ کے خٹے‘‘ مطلب ہے دھرم سالہ(مندر) میں’’لپائی‘‘ یعنی ایسا کام جس کی نہ اجرت ملے نہ ثواب۔حیرت ہوتی ہے کتنی بڑی ناانصافی ہے جو سب کچھ کرتے ہیں، معاشرہ تو کیا چرندوں پرندوں کو بھی کھلاتے ہیں، اناج، پھل، سبزیاں اور بہت کچھ۔۔ کیا وہ خدمات نہیں ہوتیں؟ جن میں کبھی ریٹائرمنٹ اور پینش نہیں ہوتی بلکہ جن کی کمائی پر سارا معاشرہ زندہ رہتا ہے، ان کو تو بیکار ہونے پر یوں پھنک دیا جاتا ہے جیسے کوڑے کے ڈھیر پر کوڑا پھینکا جاتا ہے۔لوگ روتے ہیں کہ مہنگائی ہے، بیروزگاری ہے، جرائم ہیں، معاشرہ ظلم واستحصال سے بھر گیا ہے ، زمینی و سماوی آفات ٹوٹ رہی ہیں۔
جس معاشرے میں اتنی بڑی ناانصافی ہو، ۔استحصال ہو، پچاسی فیصد عوام کو لوٹا جارہا ہو، بھوکا مارا جارہا ہو، منہ کا اپنا کمایا ہوا نوالہ بھی چھینا جارہا ہو، اس معاشرے میں یہ نہیں ہو گا تو کیا ہوگا۔ دریا ایک اور دھارے الگ الگ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل