Loading
سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
حا لیہ سالوں کے دوران جنوبی ایشیا میں جین زی کی برپا ہونے والی تحریکیں جہاں معاشرے میں سیاسی سماجی سطح پر اہم کردار ادا کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں وہیں جنوبی ایشیا میں ایک نئے ابھرتے ہوئے سیاسی و سماجی منظر نامے کا نقشہ بھی سامنے آرہا ہے۔ سری لنکا نیپال اور بنگلہ دیش کے بعد حال میں ہی انڈیا میں جین زی کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔
سری لنکا'نیپال اور بنگلہ دیش میں جین زی بڑے پیمانے پر سیاسی اور سماجی تحریکوں کی قیادت کرکے نئی تاریخ رقم کر چکی ہیں۔ ان تحریکوں کا بنیادی مقصد کوٹہ سسٹم' معاشی بدحالی' کرپشن، بیڈ گورننس' ناکام سسٹم اور آمریت کے خلاف آواز اٹھانا اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ بنگلہ دیش میں جین زی کی قیادت میں ہونے والے جولائی کے انقلاب کو دنیا کا پہلا کامیاب "GenZ انقلاب" قرار دیا جاتا ہے۔اس تحریک کا آغاز جولائی 2024 میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں متنازع کوٹہ سسٹم کے خلاف طلباء کی تحریک کی شکل میں ہوا۔ پُرتشدد مظاہروں اور کریک ڈاؤن کے بعد بالآخر 5 اگست 2024 کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں، جس کے بعد اکنامسٹ محمد حسین کی سربراہی میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی۔ جس کی نگرانی میں فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات کے ذریعے ملک میں نگران حکومت سے دوبارہ جمہوری عمل کی بحالی ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں بنیادی اصلاحات کرنے کے حوالے سے بھی رائے لی گئی تھی ان اصلاحات کیلئے نوجوانوں کی جانب سے اب بھی کوششیں جاری ہیں۔
ستمبر 2025 میں نیپال میں جین زی کی تاریخی اور شدید عوامی تحریک سامنے آئی۔اس تحریک کا آغاز نیپالی حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پابندی (26 پلیٹ فارمز کی بندش) کے بعد ہوا۔ ہزاروں نوجوان کھٹمنڈو کے مائیتی گھر منڈل میں جمع ہوئے۔ یہ تحریک دراصل کرپشن، اقربا پروری اور سیاسی قائدین کی عیاشیوں کے خلاف عوام کی دہائیوں پرانی ناراضگی کا نتیجہ تھی۔
یہ احتجاج پر تشدد شکل اختیار کر گیا جس میں پارلیمنٹ کی عمارت اور سیاسی رہنماؤں کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے نتیجے میں وزیر اعظم کو صرف 48 گھنٹوں کے اندر مستعفی ہونا پڑا۔ نیپالی نوجوانوں نے ڈیجیٹل رابطوں، ڈسکارڈ (Discord) جیسے گیمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن جمہوریت کی مشق کی اور بڑے پیمانے پر رائے عامہ ہموار کی۔
انڈیا میں جین زی کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کی شکل میں اعلی عدالت کے جج کے ریمارکس اور امتحانی نظام میں بد انتظامی اور کرپشن کے خلاف سامنے آئی ہے۔ جسے دنوں میں کروڑوں نوجوان کی فالونگ حاصل ہوگئی۔یہ تحریک بنیادی تعلیمی مسائل اور سیاسی نظام کی خرابی کے خلاف ڈیجیٹل اور مزاحمتی انداز میں متحرک ہے۔امریکہ میں مقیم بھارتی نوجوان ابھیجیت نے دیگر نوجوانوں کے ساتھ مل کر 'کاکروچ جنتا پارٹی' کے نام سے ایک آن لائن طنزیہ اور احتجاجی تحریک شروع کی۔ اس تحریک میں تعلیم کے ناقص نظام، امتحانی اسکینڈلز، اور حکومتی احتساب جیسے مطالبات شامل ہیں۔
ان تینوں ممالک میں جین زی کی تحریکیں روایتی سیاسی جماعتوں اور اشرافیہ کے خلاف نوجوان نسل کے عدم اعتماد کا نتیجہ ہیں۔ یہ نوجوان سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کر کے احتساب اور شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جین زی کی نئی تحریک 'کاکروچ جنتا پارٹی نے منشور بھی جاری کیا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران بھارت کے ناقص تعلیمی نظام اور گودی میڈیا کے خلاف نعرے گونجتے رہے۔بھارت میں جین زی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج 6 جون کو ان کے راہنما ابھیجیت کے امریکہ سے دہلی لینڈ کرنے پر شدت اختیار کرگیا۔ اس میں ملک کی دیگر نامور شخصیات نے بھی شرکت کی۔
اگر ہم جنوبی ایشیا میں جین زی کی ان تحریکوں کا جائزہ لیں تو کہا جاسکتا ہے کہ ویسے تو ہر دور میں چلنے والی تحریکوں اور برپا ہونے والے انقلابات میں نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ان حالیہ تحریکوں میں اور ماضی کی تحریکوں میں یہ فرق ہے کہ پہلے نوجوان سیاسی جماعتوں اور راہنماؤں کی قیادت میں تحریک کا حصہ رہے ہیں جبکہ یہ تحریکیں نوجوانوں نے خود شروع کرکے انہیں انجام تک پہنچایا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کے یہ ''جین زی ‘‘ کا زمانہ ہے۔ یہ نسل اگر ایک ساتھ اْٹھ کھڑی ہو جائے تو انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ یہ ہم Millennials کی طرح خاموش طبع اور سمجھوتا کرنے والی نسل نہیں ہے۔
یہ اپنا موقف برملا بیان کرتی ہے اور شعلہ بیان بھی ہے۔جین زی (GenZ) وہ نوجوان ہیں جو ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوئے اور اسی ماحول میں پروان چڑھے۔ موبائل فون‘ لیپ ٹاپ‘ سوشل میڈیا‘ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت ان کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ انٹرنیٹ کے بغیر ان کیلئے زندگی کا تصور مشکل ہے۔ اس نسل کی ایک نمایاں خاصیت یہ ہے کہ یہ ہر موضوع پر کھل کر بات کرتی ہے‘ اپنے موقف پر ڈٹ جاتی ہے‘ خوف کا شکار نہیں ہوتی اور مصلحت پسندی کو اپنے اوپر غالب نہیںآٓنے دیتی۔ ہم Millennials آج بھی اپنا موقف بیان کرتے وقت کئی پہلووں پر غور کرتے ہیں، لیکن جین زی جو سوچتی ہے وہی کر گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نسل سماجی مسائل پر سب سے زیادہ آواز اٹھاتی ہے اور طاقتور حلقوں پر تنقید کرنے سے بھی نہیں گھبراتی۔
حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں جتنی بھی تحریکوں کے نتیجے میں سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں‘ ان میں جین زی کا کردار نمایاں رہا۔ ہمارے سامنے بنگلہ دیش کی مثال موجود ہے جہاں نوجوانوں نے حسینہ واجد کے طویل اقتدار کا تختہ الٹ دیا۔ آج بنگلہ دیش کی نئی حکومت میں نوجوانوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ یہی نوجوان سفارتکاری اور خارجہ پالیسی پر بھی اثرانداز ہوئے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش نہ صرف بھارتی اثر سے نکلا بلکہ اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ بظاہر جین زی نوجوان اپنی ذاتی دنیا میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ موبائل فون پر گیمز کھیلنا‘ ریلز اور سنیپ چیٹ میں مصروف رہنا یا کھیلوں میں وقت گزارنا ان کی روزمرہ سرگرمیوں کا حصہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج کا نوجوان انتہائی حساس ہے اور معاشرے کیلئے درد بھی رکھتا ہے۔
وہ سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتا ہے۔ اگر یہ نوجوان کسی ایک مسئلے پر متفق ہو جائیں تو ایک تحریک جنم لے لیتی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو تحریکِ پاکستان میں نوجوان ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ بدقسمتی سے آج پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں نوجوانوں کی حقیقی نمائندگی موجود نہیں۔ بڑی جماعتوں میں ایک خاندان اور بزرگ قیادت ہی اہم عہدوں پر براجمان ہے۔ میرے نزدیک بزرگوں کا تجربہ زندگی اور سیاست دونوں کیلئے ناگزیر ہے۔ لیکن نئی نسل کی شمولیت کسی بھی جماعت یا تحریک کا نقشہ بدل سکتی ہے۔
اسی طرح ماضی میں انقلابِ فرانس‘ انقلابِ ایران اور عرب سپرنگ جیسی تحریکوں میں بھی نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن رہا۔ نیپال‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی نوجوان تبدیلی کے محرک بنے۔ اب تبدیلی کی باری بھارت کی ہے۔ جہاں ایک دہائی سے زائد عرصہ سے قوم پرست بی جے پی کی حکومت ہے۔ مودی سرکار کی مسلم دشمن پالیسیوں نے پورے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ پاکستان کے بروقت اور موثر جواب کے بعد حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ تاہم مودی حکومت ایک طرف پاکستان کے خلاف پراکسی وار شروع کئیے ہوئے ہے اور دوسری طرف اپنے ملک کی اقلیتوں کیلئے بھی مشکلات پیدا کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔ عام شہری مہنگائی‘ کرپشن اور ناانصافی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ حال ہی میں بھارت کے چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی‘ جس پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ خاص طور پر جین زی نوجوانوں نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج کیا۔ اسی تنقید اور ردِعمل کے ماحول میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک ہندوستانی نوجوان‘ ابھیجیت دیپکے نے آن لائن ''کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی جسے نوجوان نسل میں چند ہی دنوں کے اندر غیرمعمولی مقبولیت حاصل ہو گئی۔ جس حقارت سے نوجوانوں کو ''کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی گئی تھی‘ جین زی نے اسی لفظ کو اپنی طاقت اور شناخت میں تبدیل کر دیا۔ ابھیجیت کمیونیکیشن سٹرٹیجیسٹ ہیں اور انہوں نے اس جماعت کی بنیاد سوشل میڈیا پر رکھی ہے۔
اس جماعت کے سوشل میڈیا اکاونٹس کو کروڑوں افراد فالو کر چکے ہیں۔ اس سیاسی تحریک کو ابھی باقاعدہ رجسٹر نہیں کرایا گیا تاہم اس نے نوجوانوں میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل کر لی ہے۔ بھارتی نوجوانوں کا موقف ہے کہ اگر ریاست کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھا شخص نوجوانوں کو نظام پر بوجھ اور کیڑے مکوڑوں سے تشبیہ دے تو یہ اشرافیہ کے غرور اور عوام سے دوری کی عکاسی کرتا ہے۔ اس تحریک کے کروڑوں فالوورز بھارت میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری‘ کرپشن‘ عدالتی نظام کی سست روی اور ناانصافی کے خلاف مختلف نوعیت کی مہمات اور احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
اس جماعت نے اپنی رکنیت کیلئے بھی دلچسپ شرائط رکھی ہیں۔ ان کے مطابق رکن ایسا نوجوان ہونا چاہیے جو بیروزگار ہو‘ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہو اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت رکھتا ہو۔ اس جماعت کے منشور کے بنیادی نکات میں بولنے اور لکھنے کی آزادی‘ خواتین کی عملی سیاست میں پچاس فیصد شمولیت‘ شفاف انتخابات‘ آزاد ذرائع ابلاغ‘ فلور کراسنگ پر بیس سال کی پابندی‘ سرکاری بالخصوص عدالتی افسران کے ریٹائرمنٹ کے بعد اسمبلی رکنیت پر پابندی اور قانونِ حقِ معلومات کے تحت فوری جوابدہی جیسے مطالبات شامل ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی خاصی پریشان دکھائی دیتی ہے اور اسے محض ایک ''ڈیجیٹل ڈرامہ‘‘ قرار دے رہی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کا اثر اتنا بڑھ چکا ہے کہ بی جے پی اس سے خوفزدہ ہو کر اس جماعت کے سوشل میڈیا اکاو نٹس کو بھارت میں بند کروا رہی ہے۔ البتہ سنجیدہ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صرف اکاونٹ بند کر دینے سے جین زی رک جائے گی؟ کیا یہ پابندی آنے والے دنوں میں سڑکوں پر ایک نئی تحریک کو جنم نہیں دے گی؟ اس تحریک نے ایک اکاؤنٹ بند ہونے کے فوری بعد نیا اکاونٹ بنا لیا جسے ''کاکروچ از بیک‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تحریک کے حامی کروڑوں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ رجسٹرڈ ارکان کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے چیف جسٹس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کی تضحیک کرنا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ایسے افراد پر تنقید کر رہے تھے جو مبینہ طور پر جعلی اسناد کے ذریعے ملازمتیں حاصل کرتے ہیں۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود نوجوانوں کا غصہ کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور اس تحریک کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔جنوبی ایشیا کا منظر نامہ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت ہو‘ بنگلہ دیش‘ نیپال یا سری لنکا گزشتہ سالوں کے دوران نوجوان اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
جنوبی ایشیا کی ان جین زی تحریکوں میں ہمارے لئے سبق ہے اور اس پس منظر میں دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاسی قیادت و اسٹیبلشمنٹ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ صرف کاسمیٹک اقدامات کے بجائے انہیں اپنی گورنس کو جنگی بنیادوں پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی'کرپشن' بے روزگاری اور برسر اقتدار طبقے'اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی اور جوڈیشری کی شاہ خرچیوں جیسے مسائل کو نیک نیتی اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ آزادی اظہار رائے اور رائے عامہ کا احترام کرنا ہوگا۔خاص طور پر نوجوانوں کی آواز کو کبھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ انکی رائے اور موقف کو یکسر مسترد نہ کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل