Tuesday, June 23, 2026
 

بلندیاں، چراگاہیں اور خواب — برکوت چراگاہ کی داستان

 



صبح سورج کی پہلی کرن جب چھلت کی پہاڑیوں کے پیچھے سے نکل کر گلیوں کی چھتوں پر اتری تو فضا میں ایک نرم سی حرارت گھل گئی۔ چھلت قریے کے پکھیرو ہوا میں اڑان بھر رہے تھے اور میں اپنے مقامی دوست عالمگیر کے مہمان خانے سے اس کے باغیچے میں نکل آیا۔ ہوا میں کچھ خنکی کچھ ٹھنڈک کا احساس تھا، پہاڑوں کے سروں پر ہلکی ہلکی سی دھند کا راج تھا ایسے جیسے کسی بزرگ صوفی کا سفید عمامہ ہو اور آج کے دن کا انتظار ہم کل سے کر رہے تھے اور آج ہم نے گشو ملنگ ٹریک کرنا تھا۔ فیمان، اشنہ، اساور اور چھوٹی ارحم سب اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔ فیمان نے سب کے بیگ ترتیب دیے، اشنہ نے پانی کی بوتلیں بھریں، اساور و ارحم بس رانیوں کی طرح تیار ہو کر بیٹھی تھی، ان کو ابھی کچھ نہیں کرنا تھا بس ٹریک کرنا تھا اور چلنے سے پہلے ہی ارحم معصومانہ حیرت سے پوچھ بیٹھی،’’بابا! پہاڑ اتنا بڑا کیوں ہوتا ہے‘‘ میں نے مسکرا کر کہا، ’’بیٹی، پہاڑ بڑا اس لیے ہوتا ہے کہ ہم چھوٹے ہونے کی عاجزی سیکھ سکیں۔‘‘ ساڑھے دس بجے ہم نے روانگی کی دعا پڑھی اور چھلت پائیں سے چھلت بالا کو پیدل سفرکا آغاز کیا اور کوئی ڈیڑھ کلومیٹر بعد چھلت بالا سے شمال مغرب کی طرف جاتی اُس پگڈنڈی پر قدم رکھا جو آہستہ آہستہ گشو ملنگ کے برفانی سلسلے کی طرف بل کھاتی چڑھائی بن جاتی ہے۔ ابتدا کے دو تین کلو میٹر کچھ یکسانیت بھرے لگے۔ راہ میں دھوپ تھی، راستہ خشک تھا، اور سبزہ گویا چھٹی پر گیا تھا۔ چھپروٹ دریا ہماری دائیں طرف تھا مگر فاصلے پر اور گہرائی میں بھی ایسے جیسے کوئی دوست ہو، بات کرنا چاہتا ہو مگر شرماتا رہے۔ گوکہ ندی کا پانی ہم سے اور ہم ندی سے دور تھے مگر اسکی ٹھنڈک کے سندیسے تواتر سے ہم تک پہنچ رہے تھے۔ ارحم نے جلد ہی چلنے سے تنگ آ کر سوال کیا، ’’بابا! ابھی کتنا سفر باقی ہے‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا، ’’جب تم تھکنے لگو تو سمجھو آدھا سفر طے ہوگیا ہے۔‘‘ فیمان نے جواب میں کہا، ’’بابا! کے فلسفے سفر کو لمبا کر دیتے ہیں بابا سے مت پوچھو۔‘‘ ہم سب ہنس پڑے۔ یہی ہنسی تھی جو پہاڑوں کی خاموشی میں گونجی اور سفر کے بوریت بھرے حصے کو رنگین بناگئی۔ تھوڑا اور آگے بڑھتے ہیں تو دائیں ہاتھ آپ کو دو پتھر راہ کنارے پڑے ملتے ہیں۔ دونوں پتھر تقریباً ایک ہی حجم کے ہیں، ہاں ایک پر چھوٹے چھوٹے کافی پتھر اوپر تلے لگائے سجائے ہوئے ہیں جب کہ دوسرے پتھر کی سطح پر ایک گھوڑے کی شبیہہ قدرتی طور پر بنی ہوئی ہے۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ پرانے وقتوں سے یہ روایت رہی ہے کہ جب کوئی راہ گزر، چرواہا، لکڑہارا یا شکاری چھلت سے پارائی ڈوکری یا اس سے پار جاتا تو ایک چھوٹا پتھر بڑے پتھر پر اپنی کوئی من کی مراد پوری ہونے کی نیت سے رکھ دیتا جب کہ دوسرے پتھر پر گھوڑے کی شبیہہ سے اپنے گھٹنے اور سر کو اس نیت سے مَس کرتا کہ اسے راستے کی تھکاوٹ نہ ہو اور آج بھی لوگ اس روایت سے جڑے ہوئے ہیں گو کہ ان کی تعداد میں کمی ہوئی ہے اور ہاں جہاں یہ دو پتھر موجود ہیں وہ جگہ بھی اس روایت کے زوال کی داستان سناتی ہے کہ سن دوہزار بارہ کے گرما میں جب میں یہ ٹریک کیا تو وہاں پر روایت سے جڑے دو پتھروں کے گرد بڑے بڑے کوئی چالیس پچاس پتھروں سے دیوار بنا کر وہاں ہزار سے زائد کی تعداد میں مَنتی پتھر رکھے ہوئے تھے جبکہ سن دو ہزار چوبیس کے گرما میں دونوں پتھروں کی چار دیواری مفقود تھی اور مَنتی پتھروں کی تعداد سو سے بھی کم۔ کچھ دیر بعد منظر نے جیسے اچانک کروٹ لی۔ درختوں کے جھنڈ دکھائی دینے لگیں، کھیتوں کے سر سبز قالینوں سے واسطہ پڑا۔ سیب اور خوبانی کے درخت تو وافر تھے۔ خوبانی کے درختوں پر سنہری پھل جھوم رہے تھے، کچھ زمین پر گرے ہوئے تھے، جن کی خوشبو سے ہوا میٹھی لگنے لگی۔ اشنہ کا ہمیشہ سے خواب رہا ہے کہ خود سے پھل توڑ کر کھانا تو اشنہ نے ہاتھ بڑھا کر ایک خوبانی توڑی اور کہا، ’’بابا! اس کا ذائقہ بازار والی خوبانی سے بالکل الگ ہے۔‘‘ میں نے کہا، ’’یہ فطرت کی اصل مٹھاس ہے، جس پر انسان کا ہاتھ نہیں لگا۔‘‘ سیبوں میں ابھی رس بھرنے کا موسم تھا، ان کی ہری چھال پر سورج کی چمک موتیوں کی طرح جھلملا رہی تھی۔ میرا مقامی دوست عالمگیر مجھے ایک برس قبل ہی اس ٹریک پر میرے پوچھنے پر بتا چکا تھا کہ سیاح اور مسافر اگر دور وادی میں ہوں تو وہ درخت سے پھل کھا سکتے ہیں ہاں مگر خیال رہے کہ اتنا ہی پھل توڑا جائے جس کو کھایا جاسکے اور دوسرا یہ کہ پھل توڑا جائے نہ کہ شاخیں جن کے بطن سے اگلے برس بھی پھل نے پیدا ہونا ہوتا ہے تو بس یہ اصول میں بچوں کو بھی بتا دیا۔ اب ٹریک واقعی سندر ہوچکا تھا۔ بائیں طرف جو ڈھلوانیں تھیں ان پر اب سبزہ بھی تھا، دائیں طرف گہرائی میں چھلت ندی کی لہروں میں چمک تھی اور روانی میں موسیقی جب کہ ٹریک پر بائیں ہاتھ پر پانی کا نازک سا جھرنا بہتا جارہا تھا جو گشو ملنگ کے گلیشیئر سے آتا تھا جو گشوملنگ اور نیچے چھلت کے کھیت کھلیانوں کو زندگی دیتا تھا۔ ہر چند منٹ بعد پانی کے بہاؤ کی آواز کانوں میں موسیقی بن کر گھلتی، جیسے فطرت نے کوئی نیچے سروں کی دھن کا انتظام کر رکھا ہو ہو۔ راستے میں ہمیں کچھ لکڑہارے ملے۔ ان کے گدھوں پر اور ان کے کندھوں پر لکڑی کے گٹھے تھے۔ ایک نے دور سے آواز لگائی،’’صاحب! آگے راستہ تھوڑا تنگ ہے، بچے ساتھ ہیں تو دھیان سے گزرنا۔‘‘ ہم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔ بچوں کے لیے خاص کر اساور اور ارحم کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ پہاڑوں میں ایسے انسان ملتے ہیں جن کی باتوں میں سادگی ہے اور دل میں سخاوت۔ ارحم نے پوچھا بھی تھا،’’بابا! کیا یہ لوگ آپ کو جانتے ہیں؟‘‘ اور جواب سادہ مگر حقیقت پر مبنی تھا،’’پہاڑوں میں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔‘‘ ہم وقفے وقفے سے رکتے، پانی پیتے، اور کبھی کسی پتھر پر بیٹھ کر منظر کو دیکھتے چلتے رہے۔ ارحم چوںکہ سب سے چھوٹی تھی، تو ہمیں کئی بار اس کے لیے ٹھہرنا پڑتا۔ کبھی وہ تتلی کے پیچھے بھاگتی، کبھی کسی پھول کو دیکھنے رک جاتی، ایک دو بار چشموں کا پانی پینے کو رکے۔ سفر کی یہی خوب صورتی تھی کہ جلدی نہیں تھی، منزل نہیں، بس فطرت کے سنگ چلنا تھا۔ فطرت نے ہم کو چنا تھا، ہم فطرت کے چنیدہ تھے اور اس دن ہم گشوملنگ کے مالک تھے تو بس ہم کو کوئی جلدی نہیں تھی۔ رسول حمزہ توف ’’یہ میرا داغستان‘‘ میں اپنے والد حمزہ سدا سا کے حوالے سے لکھتا ہے کہ زندگی میں بس دو بار جھکو،’’شاخ پہ کھلا پھول توڑنے کے لیے یا پھر چشمے کا پانی پینے کے لیے وگرنہ جھکنا بے مقصد و بے کار ہے۔‘‘ اور بس پھر ہم جھکتے ہی گئے۔ بارہ بجے کے قریب سورج پورے جوبن پر تھا مگر فضا میں گرمی کم تھی۔ آدھ سے زائد سفر کے بعد ایک مقام پر پہنچ کر ہم نے پہلی بار برف پوش پہاڑوں کی جھلک دیکھی۔ ان پر بادلوں کی چادر تنی تھی، جیسے پہاڑ مراقبے میں ہوں۔ میں نے بچوں کو بتایا کہ ان میں ایک چوٹی کا نام سنو ڈوم ہے یعنی’’برف کا گنبد۔‘‘ یہ نام شاید کسی مسافر نے رکھا ہو جو پہلی بار اس کے سفید گنبد کو دیکھ کر حیران رہ گیا ہو۔ ان پہاڑوں کے پیچھے ایک طرف نلتر وادی ہے اور دوسری جانب گپہ وادی، دونوں اپنی اپنی خاموشی میں مکمل۔ دوپہر کے اڑھائی بجے ہم پارائی ڈوکری کے مقام پر پہنچے۔ یہاں لینڈ اسکیپ میں پھیلاؤ سا تھا، پارائی ڈوکری سے سنو ڈوم کا نظارہ اور برفوں کا لباس پہنے پہاڑ سجے سنورے تھے اور پاس ہی ایک کٹیا تھی جس میں چھلت سے ایک جوان رہائش پذیر تھا، جس کا کا کام گشوملنگ والے نالے کا دھیان رکھنا تھا کہ اگر اس میں کوئی بندش آئے تو وہ اس کی صفائی کرسکے جس کے بدلے کھیتوں کے مالک اس پورے سیزن میں ایک بار مشاہرہ دیتے ہیں۔ اس بھلے آدمی نے نمکین چائے اور صبح کی بنی روٹی سے ہماری تواضع کی اور وہ میری پی ہوئی بہترین چائے میں سے ایک تھی کہ سامنے برف پوش شہزادیاں، نیچے بہتی ندی، قرب میں جھرنا، صنوبر کے جنگل کی مہک اور جہاں چائے کا سوچا بھی نہیں تھا وہاں میں چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ ہوا میں ایک عجیب سی لطافت تھی، جیسے برفانی سانس ہمارے قریب ہو۔ اشنہ نے کہا، ’’یہاں ہر سانس لگتا ہے جیسے دل کو دھو دے۔‘‘ اساور اور ارحم اپنے اپنے بستے سے گولیاں ٹافیاں، نمکو اور بسکٹ ایک چادر پر بچھا کر ’’دکان دکان‘‘ کھیل رہی تھی۔ ہم نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ وہیں بیٹھ کر آرام کیا۔ کچھ وقت خاموشی میں گزرا، کچھ وقت قہقہوں میں۔ دور کہیں صنوبر کے درختوں کے بیچ کسی گائے کے گلے کی گھنٹی بجتی رہی۔ برفانی چوٹیوں پر بادلوں کا راج برقرار تھا، کبھی تھوڑا سرک کر کسی حصے کو دکھاتے، پھر چھپا لیتے۔ جیسے محبوب کبھی جھلک دے کر نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ چار بجے ہم نے واپسی کا قصد کیا۔ سورج کا مغرب کی طرف سفر شروع تو نہیں ہوا تھا مگر حدت میں نرمی تھی، پہاڑوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے کہ پہاڑوں کی بلندیاں میدانوں کی نسبت جلد سورج کو چھپالیتی ہے۔ واپسی میں راستہ جیسے بدل گیا ہو، اب وہی پتھر، وہی ندی، وہی درخت اپنے رنگ بدل چکے تھے۔ جھرنا جو صبح چاندی لگتا تھا، اب سنہری سا دکھائی دے رہا تھا۔ ارحم تھکی ہوئی تھی مگر خوش تھی۔ اس نے کہا،’’بابا! میں چودہ کلومیٹر چل لی!‘‘ میں نے کہا، ’’ہاں، آج پہاڑ نے تمھیں اپنا دوست مان لیا، اسی لیے سات ہزار نو سو فٹ کی بلندی تمھارا مقدر بنی۔‘‘ واپسی کا سفر ساڑھے سات بجے چھلت پائیں پر ختم ہوا۔ شام کے جھٹپٹے میں قریے کی چمنیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ کسی گھر سے روٹی پکنے کی خوشبو آ رہی تھی، کسی سے جلتی لکڑی کی۔ فضا میں سکون تھا، ایک مکمل دن کا اطمینان۔ جیسے ہی چھلت بالا پہنچے تو اساور نے سے ساری خالی بوتلیں اور رئپرز وہاں نصب کوڑے دان میں پھینک دیے کہ یہ آج کے لیے میرے دو چھوٹے بچوں کا سبق تھا کہ ندی نالوں، جنگل چشموں اور برف زاروں میں اپنی گندگی چھوڑ کر نہیں آنی، نیچے آباد علاقے میں لے آنی ہے۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پہاڑوں کے اوپر نیلے رنگ کا گہرا پردہ تنا تھا اور پکھیرو بھی واپسی کر رہے تھے۔ میں نے دل میں کہا،’’یہی لمحہ سفر کا حاصل ہے جب انسان خود کو زمین سے جُڑا ہوا محسوس کرے۔‘‘ یہ دن، یہ سفر، یہ پہاڑ سب ہمارے اندر نقش ہوگئے۔ خاص طور پر ارحم کے لیے یہ پہلا پہاڑی ٹریک تھا، مگر حقیقت میں یہ اُس کی فطرت سے پہلی دوستی بھی تھی۔ میں جانتا تھا کہ جب کبھی وہ بڑا ہوکر کہیں اور جائے گی، پہاڑوں کی خوشبو، ندیوں کی گنگناہٹ، اور گشو ملنگ کے برفانی جھرنوں کی آواز اُس کے دل میں زندہ رہے گی۔ اور یوگی بابا نے چرواہے سے اک بار کہا تھا،’’کچھ راہیں ہم چنتے ہیں، کچھ راہیں ہم کو چنتی ہیں‘‘ اور آج کی راہ نے ہمیں چن لیا تھا۔ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل