Loading
ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو حالیہ حملوں سے متاثرہ اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ فردو، نطنز اور اصفہان سمیت ان ایٹمی مراکز تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی رسائی نہیں دی جائے گی جنہیں حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے نقصان پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی غیر ملکی ٹیم کو ان حساس مقامات تک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ترجمان نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی ہے۔
دوسری جانب منجمد اثاثوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو اپنے منجمد فنڈز کے استعمال میں کسی نئی پابندی یا رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری تنصیبات کے مکمل معائنے پر رضامند ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق اگر تہران تیار نہ ہوتا تو مذاکرات کی پیش رفت ممکن نہ ہوتی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر بحری ناکہ بندی کے لیے امریکی افواج پہلے ہی موجود ہیں تاہم فی الحال ایسی کسی صورتحال کا امکان کم ہے۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کے منجمد اثاثے امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے نگرانی میں رکھے جائیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل