Loading
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیجی تعاون کونسل اور امریکا کا مشترکہ وزارتی اجلاس شروع ہو گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس میں پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
انھوں نے کہا کہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی خطے کے امن و استحکام کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور عمان کی جانب سے عارضی بحری راہداری کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
بحرینی وزیر خارجہ ئے مزید کہا کہ یہ اقدام عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تسلسل کے لیے اہم ہے البتہ ایران کو مفاہمتی معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا۔
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو خصوصاً جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانا ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اجلاس کے موقع پر واضح کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس یا فیس عائد کرنے کے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہوتیں اور ان پر جہازوں سے فیس وصول کرنا بین الاقوامی قوانین کے منافی ہوگا۔ تمام خلیجی ممالک نے بھی ٹول یا فیس کی مخالفت کی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے خلیجی اتحادیوں کو یقین دلایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان کے سلامتی کے مفادات کو امریکا ہرگز نظر انداز نہیں کرے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل