Saturday, June 27, 2026
 

سفری پابندیاں اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

 



سفری پابندیوں اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ جاری کردیا۔ ہائیکورٹ نے شہریوں پر سفری پابندیوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری پر سفری پابندیاں صرف قانونی اتھارٹی اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی عائد کی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے مقررہ طریقہ کار کے بغیر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں نام شامل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری زین عتیق کا نام فہرست سے نکالنے کا حکم دے دیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق زین عتیق کو جولائی 2022 میں ترکیہ سے ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں شہری کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باعث نام فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی کی، تاہم پاسپورٹ اتھارٹی نے عدم پیروی کی بنیاد پر درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کو غیر قانونی داخلے یا کسی ممنوع فعل پر ڈی پورٹ کیے جانے کی بنیاد پر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر غیر معینہ مدت تک پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں رکھا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ کسی مجاز اتھارٹی نے درخواست گزار کا نام پی سی ایل میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہو، نہ ہی پاکستان یا ترکیہ میں اس کے خلاف کسی سزا یا زیر التوا فوجداری مقدمے کا ریکارڈ موجود ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں شیریں مزاری کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر سفری پابندیاں صرف قانونی اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے تحت ہی لگائی جا سکتی ہیں۔ عدالت کے مطابق موجودہ کیس میں متعلقہ حکام قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے، جبکہ اگرچہ حتمی اختیار پاسپورٹ اتھارٹی کے پاس ہے، تاہم ایف آئی اے کی سفارش کو ٹھوس قانونی وجوہات کے بغیر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی زیر التوا نہیں، نہ کسی مجاز عدالت سے سزا کا ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسی قانونی بنیاد سامنے آئی ہے جو اس کے نام کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں برقرار رکھنے کا جواز فراہم کرتی ہو، لہٰذا اس کا نام فوری طور پر فہرست سے نکالا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل