Saturday, June 27, 2026
 

بی آر ٹی کرپشن کیس: ضمیر عباسی جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کے حوالے

 



بی آر ٹی کرپشن کیس میں ملزم ضمیر عباسی کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کردیا گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ ساڑھے 8 ارب روپے کرپشن کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کرتے ہوئے یکم جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزم کا بیان ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے یا نہیں، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ فی الحال ملزم کا بیان ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے مزید پوچھا کہ تفتیش کے لیے مزید کیا اقدامات درکار ہیں اور جسمانی ریمانڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ محرم کی تعطیلات کے باعث مطلوبہ تفصیلات حاصل نہیں ہو سکیں۔ دوران سماعت ملزم ضمیر عباسی نے عدالت میں کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کی فیملی کے بینک اکاؤنٹس اور دیگر تفصیلات کیوں طلب کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا موبائل فون اور دیگر اشیا بھی تفتیشی حکام کے پاس موجود ہیں۔ ملزم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کا کنسلٹنٹ ایک وفاقی وزیر کا قریبی ہے۔ضمیر عباسی نے کہا کہ کیا میں نقد رقم لے کر بھاگ گیا ہوں؟۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تفتیش مکمل نہ ہوئی تو کیا انہیں مسلسل حراست میں رکھا جائے گا۔ ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ٹھیکیداروں کے ساتھ دوبارہ معاہدے کیے گئے تھے اور ان میں تمام شرائط پہلے جیسی ہی تھیں۔ اس موقع پر عدالت نے ملزم سے دریافت کیا کہ کیا ان کے ساتھ کسی قسم کا جسمانی تشدد کیا گیا، جس پر ضمیر عباسی نے جواب دیا کہ وہ ایسا کوئی الزام نہیں لگا رہے۔ عدالت نے سماعت کے اختتام پر ضمنی چالان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے ضمیر عباسی کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے ملزم کو یکم جولائی کو دوبارہ پیش کرنے اور تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل