Loading
بھارتی فلم انڈسٹری، خصوصاً تامل سنیما کے معروف اسکرین رائٹر، ہدایت کار اور اداکار کے بھاگیہ راج 73 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر نے تامل فلمی دنیا کو سوگوار کر دیا، جبکہ فنکاروں، ہدایت کاروں، پروڈیوسرز اور مداحوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کے بھاگیہ راج نے اتوار کی صبح سینے میں شدید تکلیف محسوس کی، جس پر انہیں فوری طور پر ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا۔
مرحوم اپنے پیچھے اہلیہ پورنیما بھاگیہ راج، بیٹے شانتنو بھاگیہ راج اور بیٹی سارنیا بھاگیہ راج کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔
کے بھاگیہ راج کی وفات کو اس لیے بھی بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے استاد اور تامل سنیما کے ممتاز ہدایت کار کے بھارتی راجہ کے انتقال کے محض 17 روز بعد دنیا سے رخصت ہوئے، جس سے فلمی حلقوں میں غم کی لہر مزید گہری ہو گئی ہے۔
کے بھاگیہ راج کو تامل فلم انڈسٹری کے باصلاحیت ترین لکھاریوں اور فلم سازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے متعدد سپر ہٹ فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا، کئی یادگار فلموں کی کہانیاں تحریر کیں اور ہدایت کاری کے میدان میں بھی اپنی منفرد پہچان قائم کی۔
ان کی نمایاں تخلیقات میں اورو قیدیئن ڈائری بھی شامل ہے، جس کی ہدایت کاری ان کے استاد کے بھارتی راجہ نے کی تھی اور اس میں کمل ہاسن نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔ بعد ازاں اسی کہانی پر ہندی فلم آخری راستہ بنائی گئی، جس میں امیتابھ بچن نے مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ اس فلم کی ہدایت کاری خود کے بھاگیہ راج نے کی تھی۔
اپنی طویل فلمی زندگی میں کے بھاگیہ راج نے بطور اداکار، مصنف اور ہدایت کار جو خدمات انجام دیں، انہیں بھارتی سنیما، بالخصوص تامل فلم انڈسٹری کی تاریخ میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل