Loading
ایران اور مصر کے درمیان سیئٹل میں کھیلا گیا فیفا ورلڈکپ گروپ مرحلے کا اہم مقابلہ 1-1 سے برابر رہا۔
اس نتیجے کے بعد مصر نے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا تاہم ایران کی پری کوارٹر فائنل تک رسائی کی امیدیں اب بھی دیگر گروپس کے نتائج سے وابستہ ہیں۔
میچ کے آخری لمحات میں ایران کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب شجاع خلیل زادہ کا گول وی اے آر کے طویل جائزے کے بعد آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔
گول کے بعد خلیل زادہ نے خوشی میں اپنی شرٹ اتاری، دھوپ کا چشمہ پہن کر تصویر بھی بنوائی لیکن چند لمحوں بعد فیصلہ ان کے خلاف آ گیا۔
اس کے فوراً بعد اضافی وقت کے ساتویں منٹ میں سعید عزت اللہی کا ہیڈر کراس بار سے ٹکرا گیا جس سے ایران فتح سے محروم رہ گیا۔
مصر نے کھیل کے پانچویں منٹ میں محمود صابر کے گول کی بدولت برتری حاصل کی تاہم ایران نے جلد ہی جواب دیا۔
مہدی طارمی کی پنالٹی اگرچہ مصطفیٰ شوبیر نے روک لی لیکن ریباؤنڈ پر رامین رضائیان نے شاندار گول کرکے مقابلہ برابر کر دیا۔
اس ڈرا کے ساتھ ایران نے گروپ مرحلے کے تینوں میچ برابر کھیلے جبکہ مصر پہلے ہی اگلے مرحلے میں جگہ یقینی بنا چکا تھا اور گروپ میں دوسرے نمبر پر رہا۔
ایران کی ٹیم اب بہترین تیسرے نمبر پر رہنے والی آٹھ ٹیموں میں شامل ہونے کی امید رکھتی ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ گروپ ایل میں کروشیا گھانا سے ہار جائے، یا گروپ کے میں ڈی آر کانگو ازبکستان کو شکست نہ دے یا گروپ جے میں الجزائر یا آسٹریا میں سے کوئی ایک ٹیم کامیابی حاصل کرے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل