Wednesday, July 01, 2026
 

قطر نے ایران کو 6 ارب ڈالر منتقل ہونے کی خبروں کی تردید کر دی

 



دوحہ: قطر نے ان خبروں کی تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے 6 ارب ڈالر تہران منتقل کر دیے گئے ہیں۔ قطری حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ رقم اب بھی قطر کے بینکوں میں موجود ہے اور امریکی پابندیوں کے تحت ہونے کی وجہ سے ایران کو اس تک براہ راست رسائی حاصل نہیں۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ 6 ارب ڈالر دراصل ایران کی جنوبی کوریا میں تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے، جو امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت جنوبی کوریا سے قطر منتقل کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پانچ، پانچ قیدیوں کے تبادلے کے بعد یہ فنڈز قطر منتقل کیے گئے تھے، تاہم اس کا مقصد صرف رقم کو ایک مخصوص مالیاتی نظام کے تحت رکھنا تھا، نہ کہ اسے براہِ راست ایران کے حوالے کرنا۔ ترجمان کے مطابق امریکی شہریوں کی رہائی کے باوجود یہ رقم اب تک ایران کو منتقل نہیں کی گئی اور نہ ہی تہران کو اس پر مکمل اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فنڈز اب بھی قطر کے بینکوں میں محفوظ ہیں اور ان کے استعمال پر امریکی پابندیاں اور نگرانی برقرار ہے۔ ماجد الانصاری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی صدر کی جانب سے فنڈز کی واپسی سے متعلق بیانات کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ 6 ارب ڈالر اب تک ایران منتقل نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اثاثے اگرچہ ایران کی ملکیت ہیں، لیکن ان کے استعمال یا منتقلی کا ہر مرحلہ امریکی پابندیوں اور طے شدہ ضوابط کے مطابق ہوگا۔ قطری حکام نے مزید کہا کہ قطر ان فنڈز کا مالک نہیں بلکہ صرف ان کا نگہبان ہے، جبکہ ان کی منتقلی یا استعمال سے متعلق حتمی فیصلے متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی طریقہ کار کے تحت کیے جائیں گے۔ قطر کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے اور تکنیکی مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان منجمد ایرانی اثاثوں کے مستقبل پر بھی مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل