Friday, July 03, 2026
 

خلیج کی بساط پر بدلتے سیاسی نقش

 



قطب نما جب سمت کھونے لگے تو سمندر کی لہریں بھی بے یقینی کا استعارہ بن جاتی ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی فضا اسی اضطراب، احتیاط اور خاموش سفارت کاری کے سنگم پر کھڑی ہے، جہاں بند کمروں میں ہونے والے مذاکرات، کھلے میدانوں میں دی جانے والی دھمکیوں سے زیادہ اثر انگیز ثابت ہو رہے ہیں۔ طاقت کے مظاہر، عسکری بیانات اور سفارتی اعلانات بظاہر متضاد دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے باطن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے۔ کیا خطہ ایک نئے توازن قوت کی طرف بڑھ رہا ہے یا ایک اور وسیع تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے؟ دوحا میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی تازہ پیش رفت اسی سوال کو نئی معنویت عطا کرتی ہے، کیونکہ یہ محض دو ریاستوں کے درمیان گفت و شنید نہیں بلکہ پورے خطے کے سیاسی مستقبل کی سمت متعین کرنے والا عمل بن چکا ہے۔  قطر کی ثالثی میں جاری مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب تہران اور واشنگٹن دونوں اپنی اپنی سرخ لکیریں واضح کر چکے ہیں۔ ایک جانب امریکا ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی سلامتی کو بنیادی ترجیحات کے طور پر پیش کر رہا ہے تو دوسری جانب ایران ہر اس انتظام کو مسترد کر رہا ہے جس میں بیرونی عسکری موجودگی کو امن کی ضمانت سمجھا جائے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور عسکری قیادت کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہے کہ تہران اب صرف دفاعی ردعمل تک محدود رہنے کے بجائے پیشگی بازدار حکمت عملی اختیار کر چکا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں سخت لہجہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ایران یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ عالمی توانائی رسد کے اہم ترین راستے پر اس کا اثر و رسوخ بدستور فیصلہ کن ہے۔ امریکا کے اندر سے آنے والے بیانات بھی اس پیچیدہ توازن کو ظاہر کرتے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح مقصد کے بغیر ایران میں نئی فوجی کارروائی نہیں چاہتے، واشنگٹن کی داخلی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکا کے لیے مشرق وسطیٰ اب ماضی کی طرح کھلا عسکری میدان نہیں رہا۔ عراق اور افغانستان کے تجربات نے امریکی پالیسی سازوں کو یہ سبق دیا ہے کہ فوجی مداخلت وقتی کامیابی دے سکتی ہے مگر پائیدار استحکام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اب دباؤ، پابندیوں، محدود عسکری بازدار قوت اور سفارت کاری کے امتزاج پر انحصار کر رہا ہے، تاہم اس نرمی کو کمزوری سمجھنا بھی غلط ہوگا، کیونکہ امریکا نے ساتھ ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ ایرانی جوہری سرگرمیوں کی تیز رفتار بحالی یا تجارتی جہازوں پر حملے اس کی حکمت عملی بدل سکتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اصل تنازع صرف جوہری پروگرام نہیں۔ مسئلہ طاقت کے تصور کا ہے۔ امریکا ایک ایسا علاقائی نظم چاہتا ہے جس میں اس کی عسکری موجودگی اور اس کے اتحادیوں کی برتری برقرار رہے، جب کہ ایران ایک ایسا توازن چاہتا ہے جس میں بیرونی طاقتیں فیصلہ کن کردار ادا نہ کریں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ بیرونی قوتیں خود اپنا تحفظ بھی نہیں کر سکتیں، محض خطیبانہ جملہ نہیں بلکہ اس نظریاتی تصادم کی علامت ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ ایران کے داخلی منظرنامے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد ایرانی قیادت کے اندر طاقت کی نئی صف بندی اور فیصلہ سازی کا انداز بھی مذاکرات کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا۔ ایران کی سیاسی ساخت میں مذہبی قیادت، انقلابی گارڈز، منتخب حکومت اور سفارتی ادارے بیک وقت اثر رکھتے ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کی ہر پیش رفت محض خارجی تعلقات نہیں بلکہ داخلی طاقت کے توازن سے بھی جڑی ہوتی ہے، یہی سبب ہے کہ تہران بیک وقت مذاکرات جاری رکھتے ہوئے سخت عسکری بیانیہ بھی اپنائے ہوئے ہے تاکہ داخلی سطح پر کمزوری کا تاثر پیدا نہ ہو۔  اسی پس منظر میں مشرقِ وسطیٰ میں ابھرنے والی نئی صف بندیاں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والا نیا بلاک خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس صف بندی میں سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور پاکستان کی شمولیت کئی حوالوں سے معنی خیز ہے۔ اس اتحاد کا کوئی رسمی نام نہیں، مگر اسرائیلی حلقے اسے توسیع پذیر اسلامی نیٹو قرار دے رہے ہیں، اگرچہ یہ اصطلاح سیاسی مبالغہ بھی ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے میں دو الگ الگ کیمپ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلا کیمپ وہ ہے جو علاقائی استحکام کو اسرائیل کے ساتھ محدود یا مشروط تعلقات کے بجائے وسیع تر اسلامی و عرب مفادات کے تناظر میں دیکھنا چاہتا ہے۔ دوسرا کیمپ وہ ہے جو اسرائیل کے ساتھ تزویراتی تعاون کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ یہی تقسیم خطے کے مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ متحدہ عرب امارات کی اس نئی صف بندی سے نمایاں غیر موجودگی خاص توجہ کی مستحق ہے۔ گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو جس انداز میں ابوظہبی نے آگے بڑھایا، اس نے اسے کئی علاقائی فیصلوں میں الگ پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ امارات کی یہ الگ راہ محض سفارتی ترجیح نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی و تزویراتی حساب کتاب کا حصہ ہے۔ ابوظہبی اپنی معیشت کو عالمی مالیاتی مرکز، سرمایہ کاری کی محفوظ پناہ گاہ اور مغربی شراکت داری کے مضبوط محور کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی لیے وہ ایسے اتحادوں میں محتاط رویہ اپناتا ہے جو مستقبل میں واشنگٹن یا تل ابیب کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہوں۔ یہی فاصلہ خلیجی سیاست کے اندر نئے دراڑوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں ظاہری وحدت کے باوجود قومی ترجیحات مختلف ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب روایتی خلیجی قیادت سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی محور تشکیل دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاض کا عرب ممالک اور ایران کے درمیان علاقائی سربراہی اجلاس کی میزبانی کا فیصلہ اسی سوچ کا عکاس ہے۔ یہ سفارتی حکمت عملی اس امر کا اشارہ ہے کہ سعودی قیادت اب تصادم کے بجائے قابو میں رکھے گئے توازن اور محدود مفاہمت کے ذریعے علاقائی قیادت مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہی سعودی عرب ہے جس نے چند برس قبل ایران کے ساتھ شدید کشیدگی دیکھی، مگر آج عملی سیاست اسے زیادہ حقیقت پسندانہ راستے کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس نئی صف بندی میں پاکستان کی شمولیت خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ پاکستان روایتی طور پر خلیجی دنیا، ایران، ترکیہ اور عرب دنیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑی سفارتی آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنے تاریخی تعلقات، جغرافیائی حساسیت اور اقتصادی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم رکھے۔ ایک طرف سعودی عرب اور قطر جیسے قریبی شراکت دار ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد، ثقافتی روابط اور علاقائی سلامتی کے مشترکہ مفادات موجود ہیں، ایسی صورت میں پاکستان کا مصالحتی کردار ادا کرنا نہ صرف اس کی سفارتی ضرورت نہیں بلکہ خطے کے لیے بھی مفید ہو سکتا ہے۔ ترکیہ اور مصر کی شمولیت بھی اسی توازن کو تقویت دیتی ہے۔ ان دونوں ممالک کے مفادات بسا اوقات ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں، مگر مشترک نقطہ یہ ہے کہ دونوں خطے میں ایسی طاقت کا خلا نہیں چاہتے جسے مکمل طور پر بیرونی قوتیں پُر کریں۔ یہی مشترکہ سوچ اس نئے اتحاد کو وقتی سیاسی بندوبست سے بڑھ کر ایک طویل المدت رجحان بنا سکتی ہے۔ اس تمام منظرنامے میں اسرائیل کی پالیسی ایک مستقل متغیر کے طور پر موجود ہے۔ اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کے لیے بنیادی خطرہ تصور کرتا ہے اور خطے میں ہر نئی صف بندی کو اسی عینک سے دیکھتا ہے، اگر سعودی قیادت میں بننے والا بلاک اسرائیل کے لیے سفارتی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتا ہے تو تل ابیب اپنی حکمت عملی مزید جارحانہ بنا سکتا ہے۔ یہی پہلو خطے میں عدم توازن کے خدشات کو زندہ رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا اور ایران مذاکرات جاری رکھیں گے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کی ریاستیں بیرونی طاقتوں کے سائے سے نکل کر اپنے لیے ایسا اجتماعی سلامتی فریم ورک بنا سکتی ہیں جو تصادم کے بجائے توازن، تعاون اور مشترک مفادات پر مبنی ہو، اگر جواب اثبات میں ہے تو مشرقِ وسطیٰ ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے؛ اگر نہیں تو موجودہ خاموشی صرف اگلے بحران کا وقفہ ثابت ہوگی۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ دھمکیوں اور عسکری زبان کے باوجود سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ دوحا مذاکرات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ سب سے شدید دشمنی میں بھی مکالمے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ تاہم مکالمہ اسی وقت نتیجہ خیز بن سکتا ہے جب فریق اپنے فوری تزویراتی مفادات سے اوپر اٹھ کر خطے کے اجتماعی مستقبل کو دیکھیں۔ ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، اب وہ زمانہ گزر گیا ہے کہ جب بیرونی قوتیں یک طرفہ طور پر مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر لکھ سکتی تھیں۔ خطے کی ریاستیں بتدریج اپنے فیصلوں کی مالک بننے کی کوشش کر رہی ہیں، اگر یہ کوشش تدبر، تحمل اور سیاسی بصیرت کے ساتھ آگے بڑھی تو شاید ایک نیا توازن جنم لے،ایسا توازن جو جنگ کے خوف سے نہیں بلکہ مفاہمت کی قوت سے قائم ہو۔ یہی اس خطے کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور سب سے کڑا امتحان بھی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل