Friday, July 03, 2026
 

برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے!

 



گورننس کے حوالے سے ملک کے ہر حصہ سے تشویش ناک واقعات کی خبریں آ رہی ہیں۔ ایسے معلوم پڑتا ہے کہ حکومت سمٹ کر رہ چکی ہے۔ انگریزوں کے دور کی ایک لفظی ترکیب ’’لا اینڈ آرڈر‘‘ یعنی امن و امان ‘ دم توڑتا نظر آتا ہے۔ صرف ایک ریاستی ادارہ‘ جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرنے کی کوشش میں نظر آتا ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ بگڑے ہوئے امن کو سنبھالنا مشکل سے مشکل تر ہوچکا ہے۔ ایک انسانی ردعمل تو یہ ہے کہ پاکستانی شہری سوچنا چھوڑ دیں۔ روز کی بنیاد پر پیش آنے والی حکومتی نااہلی کو اپنا مقدر سمجھ کر خاموش ہو جائیں۔اس معاملہ میں کوئی سائنسی تحقیق تو میرے سامنے نہیں ہے۔ پر لگتا ایسا ہی ہے کہ پاکستانیوں کی اکثر تعداد اتنے زخم کھا چکی ہے کہ آسمان کی طرف دیکھنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ ان کی خاموش بددعائیں ‘ کب رنگ لاتی ہیں۔ حالات کب درست سمت کی طرف گامزن ہونگے۔ قطعی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ مگر انسان بہر حال ‘ سوچنے کی قوت رکھتا ہے۔ شعور کی کس سطح پر ہے‘ اس کی کوئی کسوٹی نہیں ہے۔ اس کو پرکھنا بھی کافی مشکل ہے۔ مگر یہ بات تو طے ہے کہ ہمارے معاشرے میں سنجیدہ سوچ والے زندہ لوگ موجود ہیں۔ ان کی تعداد کم نہیں ہے۔ اکثر اوقات یہ فرمایا جاتا ہے کہ معاشرے میں باشعور لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔اس بات سے قطعاً اتفاق نہیں کرتا۔ جو فکری پختگی گذشتہ پانچ برس میں عام سطح پردیکھنے میں آئی ہے اسے نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ قطعاً سیاست کی بات نہیں کر رہا۔ سادہ اور ٹھوس گزارش کر رہا ہوں کہ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت‘ ملک میں امن قائم رکھنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ افواج پاکستان ‘ دہشت گردی سے کامیابی سے لڑ رہی ہیں۔ مگر سویلین ادارے ہاتھ پاؤں چھوڑ کر بیٹھ چکے ہیں۔ چند واقعات ثبوت کے طور پر عرض کرنا چاہوں گا۔ کیونکہ‘ اگر صرف وزراء اعلیٰ سے پوچھا جائے ‘ تو انھیںؓ تو ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آئے گا۔ ان کے بیانات سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے‘ کہ صوبوں میں ‘ کوئی حل طلب مسئلہ رہا ہی نہیں ہے۔ مگر یہ بیانیہ ‘ حقیقت کے بالکل نزدیک نہیں ہے۔ اور ذرا سا کھرچ کر دیکھیں تو عوام کی روح پر زخم ہی زخم نظر آئیں گے۔جن سے اب خون ٹپکنا شروع ہو گیا ہے۔ بلوچستان پورے تین سال رہا ہوں۔ اس کا بیشتر حصہ‘ بڑے غور سے دیکھا ہے۔ کوئٹہ سے کراچی‘ اور کوئٹہ ہی سے لاہور‘ بذریعہ کار‘ ان گنت بار سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ حفاظتی انتظامات کے بغیر ‘ حد درجہ سکون والا سفر ۔ کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا۔ مگر اب‘ بلوچستان کے لوگ ملتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہی سڑکیں ‘ موت کے پھندے بن چکی ہیں۔ دہشت گرد کسی بھی وقت اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ سویلین انتظامیہ ان کو کیفیر کردار پہنچانے میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے۔ بلوچستان کی انتظامیہ میں بہت قابل اور بہادر لوگ موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان سے کام لینے سے کیوں اجتناب برتا جا رہا ہے۔ عرض کر رہا ہوں کہ گذشتہ دنوں میں‘ ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے۔ جس میں ’’وڈ‘‘ کے علاقے میں ‘ قومی شاہراہ پر دہشت گردوں نے ٹریفک روک رکھی ہے۔ ایک کرین نما ہیوی مشینری سے پل کو توڑ رہے ہیں۔ ویڈیو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیںؓ کسی قسم کا ڈر یا خوف نہیں ہے۔نیشنل ہائی وے‘ جو کہ کوئٹہ اور کراچی کو آپس میں ملاتی ہے۔ اس پر ایک قومی اثاثہ کو توڑنا‘ اس امر کی دلیل ہے کہ وہاں کی مقامی انتظامیہ ‘ اپنی ساکھ اور قوت کھو چکی ہے۔ صوبائی حکومت کے متعلق بھی یہی کہنا مناسب ہے کہ ان کی رٹ معدوم ہو چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد‘ مبینہ طور پر چار پانچ گھنٹے اس ناپاک کارروائی میں مصروف کار رہے۔ لازم ہے کہ انھوںنے اس وقت راہ فرار اختیار کی ہو گی جب فوج حرکت میں آئی ہو گی۔ مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ لا اینڈ آرڈر‘ توصریحاً سویلین انتظامیہ کی ذمے داری ہے۔ رینجر اور پیرا ملٹری فورس کو استعمال کرنا ویسے بھی مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے مقامی انتظامیہ کی کمزوری نظر آتی ہے۔ لیویز اور پولیس‘ طالب علم کی دانست میں‘ اس قابل ہیں یا بنائے جا چکے ہیں کہ دہشت گردی کو مؤثر طور پر روک سکیں۔ مگر سمجھ نہیں آ رہی کہ بالآخر ‘ چار پانچ گھنٹے ‘ مین روڈ پر ٹریفک کو کیونکر روکا گیا۔ موقعہ پر دہشت گردوں کی سرکوبی کیوں نہیں کی گئی۔ اس نکتہ پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ضرور کام کرنا چاہیے۔ کے پی کی طرف نظر دوڑائیں‘ تو معاملہ حد درجہ تشویش ناک نظر آتا ہے۔ دہشت گردی سرعام ہو رہی ہے۔ وہاں بھی اس موذی مرض کا علاج‘ عسکری ادارے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اور ان کی انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟ ایک دہائی سے زائد‘صرف ایک سیاسی جماعت کی مسلسل حکومت ہے۔ مگر کوئی ایسا شعبہ نظر نہیں آتا جس میں جوہری بہتری آئی ہو۔ کے پی کی حد تک‘ اگر حکمران جماعت ‘ بہتر کام کرنا چاہتی ہے ‘ تو اسے روکنے یا منع کرنے والا کوئی فریق نہیں ہے۔ وہاں کی صوبائی حکومت کو بھی مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ وہاں کی پولیس ‘ بہر حال ‘ قربانیاں دے رہی ہے۔ اور آئے دن‘ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ مگر صحت‘ تعلیم‘ صاف پانی کی فراہمی اور د یگر حکومتی ذمے داریاں کیوں بھرپور طریقے سے پوری نہیں کی جا رہیں؟ اس کی کوئی وجہ سامنے نظر نہیں آتی ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ‘ اپنے صوبہ کو ایک رول ماڈل کی حیثیت سے پیش کرتے۔ لوگوں میں سرکاری سطح پر ممکنہ سہولتیں مہیا کرتے۔ مگر وہ معاملہ بھی چوپٹ نظر آ رہا ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمے داریاں پوری کرنے سے تو صوبائی انتظامیہ کو کوئی روک نہیں رہا۔ طالب علم کے لیے‘ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ وزیراعلیٰ کے پی کو سنجیدگی سے‘ لوگوں کی خدمت کے کام کو اول گرداننا چاہیے۔ باقی سیاسی مسائل حد درجہ پیچیدہ ہیں اور انھیںؓ درست سمت میں چلنے میں وقت لگے گا۔ سندھ کے متعلق کوئی بات کرنا عبث ہے۔ وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کی مالیاتی بے ضابطگیوں کو کیوں برداشت کیا جا رہا ہے۔ حددرجہ تعجب کی بات ہے۔ سرکاری عمال جس طرح لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث ہیں، ان حقائق کو سب سمجھتے ہیں۔ مگر ان منفی لوگوں کی گوشمالی کیوں نہیں ہو رہی۔ سمجھ سے باہر ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ سندھ کی حکمران جماعت لوگوں میں کتنی مقبول ہے، اس کے لیے ایک غیر جانبدارانہ چناؤ درکار ہے۔ کراچی جیسے عمدہ شہر کو کسی ایک سیاسی جماعت کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھنا‘ قطعاً ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ اگر کسی سطح پر‘ بڑے شہروں کو مرکزی کنٹرول میں کرنے کی سوچ موجود ہے تو کراچی میں یہ کام سب سے پہلے ہونا چاہیے۔ اگر مرکزی انتظامیہ کا حل بھی کسی سیاسی مصلحت کے تحت ممکن نہیں ہے تو موجودہ فیڈریشن کے صوبوں کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنا بھی ایک حل نظر آتا ہے۔ کراچی اور دیہی سندھ میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ پنجاب میں امن و امان تھوڑا سا بہتر ہے۔ مگر بتایا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے چند اضلاع میں دہشت گردوں کی تعداد اور نقل و حرکت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ صوبائی حکومت ‘ اس معاملے کو حل کرنے میں اس سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی جو کرنا چاہیے۔ دو دن پہلے‘ غیر ملکی خواتین کے ساتھ‘ صوبائی دارالحکومت میں جو ظلم روا رکھا گیا ہے، ایک حد درجہ اہم مرکزی وزیر کے قریبی عزیز نے جو ادنیٰ حرکت کی ہے اس کو انصاف سے حل کرنے پر معلوم پڑے گا کہ قول اور فعل میں کتنا قریبی تعلق یا تضاد ہے؟ ابھی تک کے قرائن تو یہی ہیں کہ دو بیرونی حکومتوں کے سفارت خانوں کے سرکاری دباؤ پر‘ کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ مگر حتمی طور پر کیا رویہ رکھا جاتا ہے اس پر صوبائی حکومت کی ساکھ کا انحصار ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل