Tuesday, July 07, 2026
 

ایران سے امریکا کی فتح پر یقین نہیں لیکن ٹرمپ کو ایک اور موقع ملنا چاہیے؛ نیتن یاہو

 



اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھیں ایران کے جوہری پروگرام کو سفارت کاری کے ذریعے روکنے میں امریکی صدر کی کامیابی پر شکوک ہیں لیکن ٹرمپ کو اس کوشش کا ایک اور موقع ضرور دیا جانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ نیتن یاہو کے بقول ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران کے معاملے میں کیا ہونے والا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کی سفارت کاری کے ذریعے ایران کو جوہری پروگرام سے مکمل طور پر روکنے کے منصوبے کے کام کرجانے پر بھی شک ہے لیکن میرا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کو یہ موقع ملنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے زور دیکر کہا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو میں ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دوں گا اور یہی امرکی صدر ٹرمپ کا بھی مؤقف ہے۔ ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے اور صدر ٹرمپ کے تعلقات مضبوط ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی بڑے معاملات پر ہماری سوچ ایک جیسی ہے البتہ بعض اوقات کچھ امور پر اختلاف بھی ہو جاتا ہے۔ دنیا میں امریکہ کا اسرائیل سے بڑا کوئی اتحادی نہیں، اور اسرائیل کے لیے بھی امریکا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا ایک بڑی طاقت ہے اور مشرق وسطیٰ سے ہزاروں میل دور واقع ہے جبکہ اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے جو ایسے ممالک کے درمیان واقع ہے جو اس کی تباہی چاہتے ہیں۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ اسی جغرافیائی حقیقت کی وجہ سے اسرائیل ایران کے خطرے کو امریکا سے مختلف انداز میں دیکھتا ہے اور اس کی سلامتی کے خدشات زیادہ شدید ہیں۔ غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا کہ ان کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کو مکمل طور پر عسکریت سے پاک کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ غزہ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس بات پر زور دیا کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل