Tuesday, July 07, 2026
 

اسمگلنگ سے ایرانی پیٹرول کے بعد سب سے منافع بخش کاروبار چھالیہ ہے، سینیٹ کمیٹی

 



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں چھالیہ کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیتے ہوئے شرکا نے کہا کہ ایرانی پیٹرول کے بعد سب سے منافع بخش کاروبار چھالیہ ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں گٹکے اور چھالیہ کی پاکستان میں اسمگلنگ، سافٹ ڈرنک کے نقصانات کے معاملے پر بات ہوئی۔ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نواب خالد مگسی نے کہا کہ پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال بہت خراب ہے، امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کی وجہ سے ذمہ دار افسران کا وہاں جانا بھی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں بی ایل اے والے اب مقامی سطح پر لوگوں کے فیصلے بھی کررہے ہیں، ہماری سرحد کو بی ایل اے مینیج کررہی ہے، یہی بی ایل اے کے لوگ وہاں پر اسمگلنگ بھی کرواتے ہیں اس کے عوض پیسے وصول کررہے ہیں، سسٹم آن گراونڈ جب تک ٹھیک نہیں ہوگا معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ مضر صحت چھالیہ سے منہ کے کینسر اور جگر سمیت کئی امراض پھیل رہے ہیں، اربوں روپے کی چھالیہ اسمگل ہوتی ہے جب کہ درآمد شدہ چھالیہ آٹے میں نمک کے برابر ہے، کھجور کی گٹھلی سے چھالیہ بنا کر بھی بیچی جاتی ہے۔ خالد مگسی نے کہا کہ بلوچستان میں اسمگلنگ کی کھلی چھٹی ہے، ایران اور افغانستان کے ذریعے چھالیہ اسمگل ہوکر پاکستان آرہی ہے، افغان حکومت نے اسمگلنگ کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے، خضدار اور جھل مگسی میں چیک پوسٹوں پر بی ایل اے کے لوگ وصولیاں کررہے ہیں، چھالیہ اگر قانونی طور پر آئے تو کمپنیوں کے درمیان مقابلے کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ چھالیہ سے متعلق معاملہ وزیراعظم کی بنائی کمیٹی دیکھ رہی ہے، کھانے والی اشیا کی پری شپمنٹ ٹیسٹنگ ہونی چاہیے۔ سینیٹر ندیم بھٹو نے کہا کہ ایرانی پیٹرول کے بعد سب سے منافع بخش کاروبار چھالیہ ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ گٹکا انسان کو اتنا عادی کرتا ہے کہ وہ کھانا نہیں کھاتا، میرا ملازم ناشتے میں بھی گٹکا کھاتا ہے، گٹکا اسمگل ہوکر آتا ہے اور اس میں اتنا زیادہ فنگس لگ جاتا ہے کہ یہ کینسر کا باعث بنتا ہے۔ سیکریٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ ملک میں 80 فیصد گٹکا اسمگل ہوکر آتا ہے، 20فیصد جو آتا ہے اس کو جتنا مرضی آپ ٹیسٹ کروا لیں وہ بھی نقصان دہ ہی ہے۔ اجلاس میں ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی تقرری کا معاملہ اٹھایا گیا اور چیئرمین کمیٹی کامل علی آغا نے کہا کہ ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی اپنی تقرری ٹھیک نہیں ہوئی، میرے پاس رپورٹ موجود ہے کہ ان کی تقرری درست نہیں، اس کے باوجود ڈی جی صاحب کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آئے، ان کی تقرری کے معاملے کو الگ سے ایجنڈے میں شامل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنی بھی چیزین امپورٹ ہوتی ہیں ان کی فیک ٹیسٹنگ رپورٹس آتی رہی ہیں، پاکستان میں کرپشن ہے لیکن دیگر ممالک میں بھی کرپشن موجود ہے، کھانے پینے کی اشیا پر پوسٹ ٹیسٹنگ ہونی چاہیے، ہم وزیراعظم سے درخواست کریں گے کہ اس معاملے پر نظرثانی کریں۔ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ زہری کے سافٹ ڈرنک سے متعلق بل پر غور کیا گیا، سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ ریڈبل سے لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہوتے ہیں، میرے اپنے والد صاحب کو ریڈبل پینے کے بعد اسپتال جانا پڑا، اسٹنگ اور دیگر سوفٹ ڈرنکس کے اوپر لکھا ہونا چاہیے کہ اس میں کتنی شوگر اور کتنی کیفین ہے؟ اسکولوں اور کالجوں میں بچوں کو سوفٹ ڈرنکس سے دور رکھا جائے، سافٹ ڈرنکس میں بہت زیادہ مقدار میں چینی اور کیمیکل ملائے جارہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں شوگر کے مریض بڑھ رہے ہیں۔ حکام وزارت سائنس وٹیکنالوجی نے شرکار کو بتایا کہ 250 ایم ایل کی سوفٹ ڈرنک بوتل میں 9 چمچوں کے برابر چینی ہوتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل