Tuesday, July 07, 2026
 

فرانس کے ایک اور میوزیم میں چوری کی انوکھی واردات؛ کروڑوں ڈالر کے نایاب زیورات غائب

 



فرانس میں معروف شیشہ ساز اور جیولری ڈیزائنر رینے لالیک سے منسوب میوزیم میں نامعلوم چوروں نے علی الصبح ڈکیتی کی حیران کن واردات کر ڈالی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمال مشرقی علاقے ونگن سر موڈر میں واقع لالیک میوزیم ایک بڑی ڈکیتی کا نشانہ بن گیا جہاں نامعلوم افراد قیمتی زیورات چرا کر فرار ہوگئے۔ فرانسیسی حکام اور میوزیم انتظامیہ نے بتایا کہ واردات صبح تقریباً 5 بج کر 30 منٹ پر کی گئی جب ملزمان اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر میوزیم میں داخل ہوئے اور سیدھا اس گیلری کا رخ کیا جہاں نایاب زیورات نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔ چور تقریباً 20 قیمتی زیورات اپنے ساتھ لے گئے جن کی مجموعی مالیت 40 لاکھ یورو (تقریباً 5 کروڑ امریکی ڈالر کے قریب) بتائی جا رہی ہے تاہم حتمی نقصان کا تخمینہ تمام ریکارڈ کی جانچ کے بعد جاری کیا جائے گا۔ میوزیم انتظامیہ نے واقعے کے بعد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عجائب گھر کو چند روز کے لیے عوام کے لیے بند کر دیا۔ پولیس چوری ہونے والے نوادرات کی جلد از جلد برآمدگی کے لیے سرگرم عمل ہوگئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ میوزیم اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاحال کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ خیال رہے کہ لالیک میوزیم 2011 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ دنیا کے معروف فرانسیسی آرٹسٹ، جیولر اور شیشہ ساز رینے لالیک کے فن پاروں، شیشے کی تخلیقات اور نادر زیورات کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اس میوزیم کا رخ کرتے ہیں۔ یہ واردات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فرانس کے عجائب گھروں کی سیکیورٹی پہلے ہی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ برس پیرس کے لوور میوزیم میں بھی ایک منظم ڈکیتی کے دوران چند ہی منٹوں میں کروڑوں ڈالر مالیت کے تاریخی زیورات چرالیے گئے تھے جس کے بعد میوزیمز کی حفاظت مزید سخت کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل