Loading
خیبرپختونخوا حکومت اراکین اسمبلی کی مراعات ایکٹ میں ترامیم سے پیچھے ہٹ گئی اور بلیو پاسپورٹ سمیت اراکین اسمبلی کی نئی مراعات کے لیے کی گئی ترامیم واپس لینے کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں تنخواہیں اور مراعات کے حوالے سے قانون میں ترامیم کرتے ہوئے ارکان اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کی سہولت مانگی گئی لیکن سوشل میڈیا پر اس قانون کی شدید مخالفت کی گئی جس پر وزیراعلی سہیل آفریدی نے قانون میں کی گئی ترامیم کو واپس لینے کی ہدایت کی۔
وزیر اطلاعات شفیع جان نے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ سے متعلق صوبائی کابینہ کے دیگر اراکین کے ہمراہ اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت آج صوبائی کابینہ اراکین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی تمام قابل اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام قابل اعتراض شقوں کو 1988ء کے ایکٹ کے مطابق بحال اور درست کیا جائے گا، پیر کے روز ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں تمام پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فارم 45 کی حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے قائم ہوئی ہے، اس لیے حکومت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی جو عوامی امنگوں کے منافی ہو، شفیع جان نے کہا کہ حکومت صحافی برادری اور عوام کی تمام تحفظات کو سنے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل