Loading
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے دبئی کی بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے متبادل تجارتی راستے کی تیاری کے لیے مشرقی ساحلی ریاست فجیرہ میں نئی کثیرالمقاصد بندرگاہ قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دبئی کی معروف بندرگاہی کمپنی ڈی پی ورلڈ اس منصوبے پر کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت نہ صرف فجیرہ میں نئی بندرگاہ تعمیر کی جائے گی بلکہ موجودہ پورٹ آف فجیرہ میں ایک جدید کنٹینر ٹرمینل بھی قائم کیا جائے گا، تاکہ درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دبئی کی جبل علی پورٹ پر انحصار کم کرنا اور ایسی متبادل بندرگاہ تیار کرنا ہے جہاں سے بحری تجارت آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر جاری رکھی جا سکے۔
برطانوی اخبار کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی، جس کے بعد متحدہ عرب امارات نے اپنی تجارتی اور اقتصادی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متبادل راستوں پر توجہ دینا شروع کی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد دبئی کی جبل علی پورٹ کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس نے متبادل بندرگاہ کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا۔
ذرائع کے مطابق نئی بندرگاہ مکمل ہونے کے بعد کنٹینرز اور دیگر تجارتی سامان کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر متحدہ عرب امارات میں لانے اور یہاں سے روانہ کرنے کی سہولت میسر آ سکے گی۔
ڈی پی ورلڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ اگر منصوبہ طے شدہ رفتار سے آگے بڑھا تو نئی بندرگاہ تقریباً ڈیڑھ سال میں مکمل کی جا سکتی ہے۔
اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ فجیرہ میں نئی بندرگاہ بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ جبل علی پورٹ کو ختم یا تبدیل کیا جا رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد ملک کے لیے ایک محفوظ اور متبادل تجارتی راستہ فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ابوظبی پہلے ہی اپنے خام تیل کا ایک حصہ فجیرہ کے ذریعے برآمد کرتا ہے اور مستقبل میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے اس راستے سے تیل کی برآمدات بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہی حکمت عملی، علاقائی تجارت اور خلیجی بحری نقل و حمل میں اہم تبدیلی آ سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل