Wednesday, July 15, 2026
 

مولانا نے کہا فوج کا سیاست میں کردار نہیں ہونا چاہیے، جب حکومت بنائی اسوقت یہ بات کرتے، ملک احمد خان

 



پنجاب اسمبلی میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی حیثیت پر کوئی شک نہیں، لیکن مولانا فضل الرحمان نے جو بات کی ہے اس پر وہ مضطرب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کے بیان کے بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ کسی دہشت گرد سے بیٹھ کر ریاست کا بات کرنا مناسب نہیں، ہم پہلے ہی بات چیت میں بہت وقت ضائع کر چکے ہیں۔ دہشت گرد نہ پاکستان کے آئین کو مانتا ہے اور نہ کسی اور قاعدے کو، ایسے دہشت گرد مسجدوں تک کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کیا بات کی جا سکتی ہے؟ کیا دہشت گردوں کی طاقت کو قبول کر لیا جائے؟ کیا انہیں روز دہشت گردی کے واقعات کرنے کی اجازت دے دی جائے؟ ہم نے بات چیت بھی کی، جب کوئی سیاسی طور پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ افواجِ پاکستان ملکی سالمیت کی خاطر لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے صدر زرداری کے بارے میں کہا کہ وہ صدارتی محل میں عیاشی کر رہے ہیں، اسی طرح وزیراعظم کو بھی نشانہ بنایا۔ مولانا نے ایسی باتیں شروع کر دی ہیں جو واقعاتی طور پر بھی درست نہیں اور سیاسی طور پر بھی درست نہیں۔ مولانا نے وہی کیا جو تحریک انصاف نے کیا تھا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ صدر مشرف کو دس بار باوردی صدر بنانے کی بات کی گئی۔ اس وقت رانا ثناء اللہ نے اس قرارداد کو مسترد کیا تو سوال اٹھا کہ کیا ایسے صدر منتخب کیے جا سکتے ہیں؟ اس وقت مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ باوردی صدر منتخب کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت ایک صوبے میں مولانا کی حکومت تھی۔ جب آپ کے پاس صوبے کی حکومت ہو تو آپ فوج کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے شہدا کی تذلیل کی، انہیں اس پر معافی مانگنی چاہیے۔ شہدا کی تذلیل چاہے تحریک انصاف کرے یا مولانا جیسا جید عالم، ہم چپ نہیں رہیں گے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ معافی مانگیں۔ کیا کوئی صرف تنخواہ کے لیے جان دے سکتا ہے؟ آپ اپنے جملوں سے افواج کی بے عزتی کریں، یہ ناقابل برداشت ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں دہشت گردوں کو اجازت دے دی جائے کہ وہ مسجدوں پر حملے کریں اور معصوم جانوں کو نشانہ بنائیں؟ کم از کم مولانا فضل الرحمان سے اس طرح کی بات کی بالکل توقع نہیں تھی۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ مولانا نے کہا فوج واپس بیرکوں میں جائے اور فوج کا سیاست میں کردار نہیں ہونا چاہیے۔ مولانا یہ بات تب کرتے جب متحدہ مجلس عمل کی حکومت بنائی گئی تھی۔ اس وقت آپ یہ کہتے تو آج ہم آپ کی بات سنتے، لیکن جب آپ کو حکومت بنا کر دی جائے تو آپ کو فوج کا سیاست میں کردار تسلیم ہوتا ہے اور اگر حکومت نہ دی جائے تو آپ اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کی جنگ کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی سفارت کاری کو دنیا تسلیم کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بیان سے ان کا بغض جھلکتا ہے۔ جس حلقے میں آ کر مولانا نے بات کی، اس حلقے میں ہم نے بھی بڑے بڑے جلسے کیے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل