Loading
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے اولاد نہ ہونے پر خاتون کولیگ کو بار بار خواجہ سرا سے تشبیہ دینے پر سرکاری افسر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
محکمانہ رقابت میں خاتون کے خلاف تضحیک آمیز زبان کا استعمال کرنے پر وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے جرمانہ عائد کیا۔
ترجمان فوسپاہ کے مطابق سرکاری افسر نے شکایت گزار خاتون کولیگ کے خلاف توہین آمیز پیغامات آن لائن شائع کیے۔ اولاد پیدا کرنے سے قاصر رہنے پر ملزم نے اسی ذاتی امر کو نشانہ بنا کر خاتون کولیگ کو بار بار خواجہ سرا برادری سے تشبیہ دی۔
فیصلے کے مطابق شکایت کنندہ کے خلاف تذلیل آمیز مہم کا مرکزی دستاویزی ثبوت قرار پایا، ملزم نے شعوری طور پر صنفی بنیادوں پر تضحیک آمیز زبان کو کولیگ کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا۔
فوسپاہ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواجہ سرا شناخت سے منسوب اصطلاحات کو بطور تضحیک استعمال کرنا محض ناشائستہ زبان نہیں بلکہ نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو تقویت دیتا ہے۔
فیصلے کے مطابق یہ عمل معاشرے کے ایک انتہائی کمزور اور مظلوم طبقے کے خلاف امتیازی رویے کی عکاسی کرتا ہے، اس عمل کی پیشہ ورانہ ماحول میں کوئی گنجائش نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل