Wednesday, July 15, 2026
 

ایران نے کس ’چالاکی‘ سے عرب ممالک میں امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں کا پتا چلایا؟ رپورٹ

 



ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اب روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ سائبر محاذ تک بھی پھیل چکی ہے جس میں ٹیکنالوجی کے استعمال نے نئی جدت پیدا کردی۔ فنانشل ٹائمز، نیویارک ٹائمز اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایران کے سائبر سیل نے خلیجی ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں اور فوجی کنٹریکٹرز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے موبائل فون نیٹ ورکس کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل اور تنازع کے ابتدائی مرحلے میں خلیجی ممالک کے ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورکس میں غیرمعمولی سرگرمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس خفیہ اور پُراسرار سرگرمی کا مقصد رومنگ پر موجود مخصوص موبائل فونز کی موجودہ لوکیشن معلوم کرنا بتایا گیا ہے جس کے لیے SS-7 ٹیلی کمیونی کیشن پروٹوکول استعمال کیا گیا۔ SS-7 کیا ہے اور کیسے استعمال ہوتا ہے؟ اس مقصد کے لیے ایس ایس 7 یعنی Signaling System No. 7 دنیا بھر میں موبائل آپریٹرز کے درمیان کالز، پیغامات اور رومنگ سروسز کو مربوط رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین کئی برسوں سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ اس میں موجود سیکیورٹی خامیاں ہیکرز یا ریاستی اداروں کو مخصوص موبائل فونز کی لوکیشن معلوم کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔ موبائل سرویلنس مانیٹر کے بانی اور سائبر سیکیورٹی محقق گیری ملر کا کہنا ہے کہ  مختلف خلیجی ٹیلی کام نیٹ ورکس کو بڑی تعداد میں SS-7 پنگز موصول ہوئیں جن کا مقصد مخصوص امریکی موبائل نمبرز کی موجودہ لوکیشن معلوم کرنا تھا۔ ان کے بقول دستیاب ڈیٹا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک منظم اور مربوط مہم تھی جس میں عام صارفین کے بجائے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوجیوں کی لوکیشن معلوم کرنے کی کوشش رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بحرین، کویت، قطر، عراق اور دیگر خلیجی ممالک میں ہزاروں امریکی فوجی اور کنٹریکٹرز تعینات ہیں۔ مغربی انٹیلی جنس ذرائع کا خیال ہے کہ ایران یا اس سے وابستہ عناصر نے مقامی موبائل کمپنیوں کے رومنگ معاہدوں اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی اہلکاروں کی نقل و حرکت معلوم کرنے کی کوشش کی۔ گیری ملر کا کہنا ہے کہ بعض ٹریکنگ سرگرمیوں کا تعلق ایک ایرانی موبائل آپریٹر سے جوڑا جاتا ہے جس سے ایک مخصوص "ڈیجیٹل فنگر پرنٹ" سامنے آیا جو دیگر مشتبہ سائبر کارروائیوں سے بھی مماثلت رکھتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایران SS-7 اور خطے کے موبائل نیٹ ورکس کے ذریعے امریکی اہلکاروں کی نگرانی نہ کر رہا ہو تو یہ حیران کن بات ہوگی کیونکہ اس کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے۔ سائبر جنگ کا نیا محاذ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) سے وابستہ سائبر ماہرین نے بتایا کہ فوجی اہداف کی نشاندہی کے لیے موبائل نیٹ ورک سگنلز کا استعمال ایران کی سائبر جنگی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کی علامت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فوجی کی درست لوکیشن حاصل ہو جائے تو اسے ڈرون، میزائل یا دیگر حملوں کے لیے ہدف بنانا آسان ہو جاتا ہے اسی لیے جدید جنگوں میں موبائل فون بھی ایک اہم سیکیورٹی خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ امریکی حکام کا ردعمل امریکی سینٹرل کمانڈ نے رواں سال اپریل میں کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ اسے متعدد انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں مخالف ممالک کی جانب سے امریکی فوجیوں کی نگرانی کے لیے تجارتی لوکیشن ڈیٹا اور موبائل ٹریکنگ ٹیکنالوجی استعمال کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج کے تحفظ کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔ اشتہاری ڈیٹا بھی خطرہ بن گیا رپورٹس کے مطابق اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والے ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز بھی کسی مخصوص ڈیوائس یا صارف کی نقل و حرکت جاننے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی قانون ساز پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کرچکے ہیں کہ دشمن ممالک ان تجارتی ڈیٹا بیسز سے فائدہ اٹھا کر امریکی فوجیوں اور حساس سرکاری اہلکاروں کی نگرانی کرسکتے ہیں۔ ایران کا مؤقف رپورٹس میں ایران کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں مغربی ممالک کی جانب سے اپنے خلاف لگائے گئے متعدد سائبر حملوں اور نگرانی کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی سائبر کشیدگی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اب صرف میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سائبر جنگ، الیکٹرانک نگرانی اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس بھی اس تصادم کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں موبائل فونز، ٹیلی کام نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل ڈیٹا مستقبل کی جنگوں میں اہم ہتھیار اور کمزوری، دونوں کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل