Thursday, July 16, 2026
 

کسٹمزکے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ

 



ایف پی سی کی آئی کی کسٹمز ایڈوائزری کونسل نے پاکستان کسٹمز کے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کردیا ہے۔  ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین خرم اعجاز نے کہا ہے کہ فیس لیس کسٹمز ایسیسمنٹ کے نفاذ کے بعد متعارف کرائے گئے گروپ لیس اسیسمنٹ ماڈل کے آزادانہ کارکردگی جائزے کا بھی اطلاق کیا جائے۔  انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر اصلاحات کو صرف دعوئوں کے بجائے شواہد، قابلِ پیمائش نتائج اور عالمی معیار کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔ اس تجویز کا مقصد فیس لیس ایسیسمنٹ پر تنقید کرنا نہیں کیونکہ یہ شفافیت، دیانتداری اور یکساں کسٹمز ایسیسمنٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم اصلاح ہے تاہم فیس لیس ایسیسمنٹ کے ساتھ سیکٹر پر مبنی خصوصی ایسیسمنٹ گروپس کا خاتمہ ایک بڑی ساختی تبدیلی ہے جس کے اثرات کا اب غیر جانبدارانہ، شواہد پر مبنی اور آزادانہ جائزہ لینا ضروری ہوچکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے مکمل طور پر گروپ لیس ایسیسمنٹ ماڈل اپنایا جبکہ دنیا کی کئی معروف کسٹمز انتظامیہ نے مختلف طریقہ کار اختیار کیا۔ بھارت نے فیس لیس ایسیسمنٹ متعارف کرانے کے بعد نیشنل اسیسمنٹ سینٹرز اور فیس لیس اسیسمنٹ گروپس قائم کرکے مخصوص گروپ کی بنیاد پر مہارت کو مزید مضبوط بنایا جبکہ امریکا، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور آج بھی تکنیکی طور پر پیچیدہ اسیسمنٹس کے لیے تاحال شعبہ وار مہارت پر انحصار کر رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل