Thursday, July 23, 2026
 

امریکا کی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مسلسل 12 ویں روز بھی جاری

 



امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے مسلسل 12 ویں روز ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے، جنگی سازوسامان اور طبی عملہ بھی روانہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر بدھ کی شام امریکی وقت کے مطابق 5 بج کر 30 منٹ پر ایرانی فوجی اہداف کے خلاف نئی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ At 5:30 p.m. ET today, U.S. forces began launching more strikes against Iranian military targets at the Commander in Chief's direction. The mission will continue to further degrade Iran's ability to threaten civilian mariners and commercial vessels transiting regional waters. — U.S. Central Command (@CENTCOM) July 22, 2026 بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید توسیع پر غور کر رہا ہے جس کے پیش نظر امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی، طبی عملہ اور جدید ہتھیار منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز خطے میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا اور برطانیہ میں موجود فضائی اڈوں پر بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ ادھر امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھی مالی سال 2027 کے لیے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت دفاعی اخراجات کے لیے ریکارڈ 1.15 ٹریلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ بل 212 کے مقابلے میں 216 ووٹوں سے منظور ہوا۔ اگرچہ ڈیموکریٹک ارکان نے اس کے بھاری اخراجات اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ پینٹاگون کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کی شق پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم بل کو ریپبلکن اکثریت کی حمایت حاصل رہی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل