Thursday, July 23, 2026
 

ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار نادرا افسران کے اہم انکشافات

 



ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتارنادرا افسران نے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گرفتارنادرا افسران نے100 سے زائدغیرملکیوں کے پاکستانی شناختی کارڈزپراسیس  کیے ہیں، جب کہ غیر ملکیوں کے لیے درکار دستاویزات گرفتار پرائیوٹ ایجنٹ فراہم کرتا تھا۔ دستاویزات میں پیدائش،اموات سرٹیفکیٹ،میرج سرٹیفکیٹ،امیدوراوں کے والدین کے شناختی کارڈ شامل  ہیں۔ دستاویزات پراسیسنگ کے لیے راؤ زاہد نامی سابق نادراملازم کے ذریعے آگے روانہ کرتا تھا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جہانزیب میمن تجزیے کے لیے ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔ رقم گرفتارفیاض احمدمعمر شاہ اورراو زاہد کے ذریعے جہانزیب  کو روانہ کی جاتی تھی۔ فیاض احمد نے داؤد، پروین،ماجدہ بی بی اور نصیر اللہ کے مشتبہ شناختی کارڈ پراسیس کرنے کاانکشاف کیا ہے۔ تلاشی کے دوران ملزم سے موبائل فون اور متعلقہ مواد برآمد کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے علاوہ ملوث دیگر ملزمان کے کردار کا تعین دوران تحقیقات کیا جائے گا۔ دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کے روبروافغان شہریوں کے لیے جعلی دستاویزات بنانے کے مقدمے کی سماعت میں ایف آئی اے نے 4 ملزمان انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر  کو عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزمان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان افغان شہریوں کے جعلی شناختی دستاویزات کے لیے ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ ملزمان کی دہشتگرد عناصر سے روابط کے شواہد بھی ملے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل