Loading
خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل اور بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی۔
ایک جانب عمان کا اعلیٰ سطحی وفد تہزان پہنچ گیا جبکہ دوسری طرف قطر نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ باہمی مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عمانی وفد تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا جن میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایران اس سے قبل بھی یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کے انتظام کو عمان کے ساتھ مل کر چلانے کے لیے تیار ہے کیوں کہ عمان آبنائے ہرمز سے متصل دوسرا ساحلی ملک ہے۔
تاہم امریکا اور خلیجی ممالک اس تجویز کو مسترد کرچکے ہیں اور اس انتظامی ماڈل سے اتفاق نہیں کرتے۔
ادھر قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی نے دوحہ میں برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات میں فریقیں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھائیں اور امریکا و ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں پر عمل کریں۔
قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ علاقائی سلامتی کا تحفظ ہو، حالیہ سفارتی پیش رفت کے ثمرات برقرار رہیں اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار استحکام کو فروغ مل سکے۔
انھوں نے برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قطر خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی مذاکرات کو فروغ دینے اور ایک ایسے جامع معاہدے کی حمایت جاری رکھے گا جو دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت فراہم کرے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل