Friday, July 24, 2026
 

پی ٹی آئی نے پانچ اگست جلسے کا مقام تبدیل کردیا

 



پی ٹی آئی نے پانچ اگست جلسے کا مقام تبدیل کردیا، جلسہ اب پشاور موٹروے کے قریب میدان میں ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا جس میں آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر اعلی ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کی۔ اجلاس میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں پانچ اگست کے جلسے کے مقام کے حوالے سے بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں، پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا، عوام کی سہولت کے لیے پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کر کے پشاور موٹروے کے قریب کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025ء سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، مخالفین نے مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا، عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کی کوشش کی، ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا، بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ہم میں سے کسی کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا، عمران خان کو ملنے والا مینڈیٹ مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے، وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کر رہا ہے، عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت دی جائے، عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے، نو مئی کی غیرجانب دارانہ تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، عمران خان کا مؤقف ہے “فوج بھی میری، ملک بھی میرا”، تمام بیانیوں میں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے، اب پُرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔ پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، اجلاس میں تلخی ہوئی، ناراض ارکان نے سخت تقریریں کیں، وزیراعلی سہیل آفریدی کی تقریر کے بعد ناراض ارکان نے سخت جملوں کا تبادلہ کیا جس پر وزیراعلی ناراض ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق ناراض ارکان نے تحریک سے قبل کنونشن بلانے اور ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدے داروں سے حلف لینے کا مطالبہ کیا، ناراض ارکان کے سخت رویے سے اجلاس میں ماحول تلخ ہوگیا جس کے بعد ناراض ارکان اجلاس سے چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کے تحفظات پر وزیراعلیٰ نے ان کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ناراض رکن فضل الہٰی نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ 5 اگست کا جلسہ کچھ روز بعد کیا جائے پہلے ورکرز کنونشن بلایا جائے، جس طرح سینیٹ الیکشن میں حلف لیا گیا اسی طرح تحریک کے لیے حلف لیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس بار تحریک زور پکڑے، جلسہ خیبرپختونخوا میں نہیں پنجاب میں ہونا چاہیے تاکہ حکومت پر دباؤ آئے مگر ہماری تجاویز کو نہیں سنا گیا جب کہ ہمیں عمران خان کی رہائی کے لیے فیصلہ رکن تحریک چلانی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل