Loading
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بلاول صاحب نے کل کسی کا گلا پکڑا اور رات تک پیر پکڑ کر بیٹھے رہے، وہ بات نہ کریں جس پر شام کو صفائیاں دیتے پھریں۔
لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بلاول بھٹو میں جب حوصلہ نہیں تھا تو بات نہ کرتے، پھر کہتے رہے میں نے یہ تو نہیں کہا تھا، میرا یہ مطلب نہیں تھا، کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں عوام نے ہمیں اُسی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا ہے جس پر بلاول صاحب تلملا رہے ہیں، آپ کا ایم پی اے یا ایم این اے پنجاب سے نہیں جیتا تو کشمیر میں کیسے جیتے گا؟۔
انہوں نے کہا کہ بلاول صاحب کل مفاد کی بات کر رہے تھے، کون سے مفاد کی بات ہو رہی ہے، صدر یا چیئرمین سینیٹ یا چاروں صوبوں کی گورنر شپ کی بات ہو رہی تھی یا گلگت بلتستان میں حکومت لینے کے مفاد کی بات ہو رہی تھی، جب عہدے لینے تھے تو لائن میں کھڑے تھے، آپ کو یہ دوغلی باتیں سوٹ نہیں کرتیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ میرا سوال یہ ہے کشمیر میں وزیر اعظم آپ کا پولیس آپ کی اور دھاندلی کا الزام ن لیگ پر لگارہے ہیں، نوابشاہ میں انکے گھر کی سیٹ پر جو امیدوار کھڑا ہوتا ہے یہ اس امیدوار کو ہی غائب کر دیتے ہیں۔ ابھی کشمیر الیکشن کے دو مرحلے باقی ہیں، آپ کو شکایت ہے تو عدالت جائیں اور قانونی راستہ اپنائیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ الیکشن ہوتے رہتے ہیں سیاسی جماعتیں الیکشن لڑتی ہیں، عوام کا فیصلہ خوش دلی سے ماننا جمہورہت کہلاتی ہے، ایک جماعت جو خود بڑی جمہوریت پسند بنتی ہے وہ کل سے عوام کا فیصلہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کل میں نے بلاول صاحب کو سنا مجھے لگ رہا تھا وہ کسی کو کاپی کر رہے تھے اور جو وہ زبان استعمال کر رہے تھے وہ کوئی اچھی بات نہیں ہے، ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ سندھ میں انہوں نے کیا کیا ہے، کراچی کو ٹینکر مافیا کے اوپر کیوں چھوڑا ہوا ہے، پیپلز پارٹی کا کوئی سرخیل اس کا جواب نہیں دے گا، کوئی ایک تو ہمیں سندھ کی ترقی کی کوئی بات سنا دے، ہمیں اپنے پراجیکٹس بتاکر شرمندہ ہی کردیں۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے رائے ونڈ کا مقابلہ گڑھی خدا بخش سے کریں، یہ اپنے گھر کی حالت نہیں سدھار سکے تو آزاد کشمیر کی حالت کیا ٹھیک کریں گے، زیادہ بارش ہوتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے، پنجاب میں بھی کل رات سے بارش ہورہی ہے زیادہ پانی آ رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ ڈرین بھی ہوتا ہے، پنجاب میں ایئر ایمبولینس جبکہ سندھ میں سائیکل ایمبولینس ہے، مریم نواز کے اسکولوں میں میل پروگرام چل رہا ہے اور سندھ کے اسکولوں کی حالت زار دیکھ لیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مراد علی شاہ نے 1700 ارب روپے کہاں لگائے ہیں ہمیں دکھا دیں، سترہ سو ارب بہت بڑی رقم ہوتی ہے، کون سے پراجیکٹس بنائے ہیں، اپنے بلٹ پروف گھروں اور گاڑیوں سے باہر نکلیں، اسی وجہ سے گورنر ہاؤس میں آپ کو خالی کرسیوں کا جلسہ کرنا پڑا۔یہ ہمیں نہیں بتاتے کراچی میں جرائم کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے، انٹر نیشنل رپورٹس بتا رہی ہیں کہ کراچی میں کرائم انڈیکس 57 فیصد ہے جبکہ لاہور کا 37 ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل