Friday, July 31, 2026
 

ایران نے مصر کی بندرگاہ پر ڈرون حملے کو اسرائیل کا ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دے دیا

 



تہران / قاہرہ: ایران نے مصر کی بندرگاہ پر دو جہازوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے واقعے کو اسرائیل کا مبینہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب مصر نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں حملے کا الزام ایران پر عائد کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران مصر کو اپنا دوست اور خطے کا ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے، جبکہ مصر کی سلامتی بھی ایران کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اسرائیل کی مبینہ سازشوں اور ایسے ’فالس فلیگ آپریشنز‘ سے ہوشیار رہنا چاہیے جن کا مقصد خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا اور مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑا مشترکہ خطرہ مسلم دنیا کے اتحاد کو لاحق ہے، اس لیے علاقائی ممالک کو اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ دوسری جانب مصر کے وزیر اطلاعات نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ مصر نے بندرگاہ پر ہونے والے حملے کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔ مصری حکام کے مطابق اس حوالے سے گردش کرنے والی رپورٹس بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز مصر کی بندرگاہ دامیاطا میں ڈرون حملے کے بعد دو جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ برطانوی بحری سکیورٹی کمپنی ایمبری نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے کے دوران ایک امریکی گیس اسٹوریج ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس کی ذمہ داری کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کی بندرگاہ پر پیش آنے والا یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں معلوماتی جنگ اور سفارتی کشیدگی بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل