Friday, July 31, 2026
 

پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز

 



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بارہویں ایڈیشن کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل 10 کا انعقاد اپریل، مئی میں ہوا جبکہ 11 واں ایڈیشن مارچ کے اواخر سے مئی تک جاری رہا، یہ تاریخیں آئی پی ایل سے متصادم رہیں، روایتی طور پر پی ایس ایل فروری اور مارچ میں ہوتی تھی، اب 12ویں ایڈیشن کیلیے تاریخوں پر گزشتہ روز تبادلہ خیال کیا گیا۔  پی سی بی اور فرنچائز اونرز کا ورچوئل میٹنگ کا انعقاد گزشتہ روز ہوا، اس موقع پر نئی اور پرانی تاریخوں کے فوائد اور نقصانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فروری، مارچ 2027 کی ونڈو میں بھارتی لیگ سے تصاوم نہ ہونے کی وجہ سے بڑے کھلاڑیوں کی مکمل دستیابی ممکن ہوگی، موسم ٹھنڈا اور اسپانسرز بھی زیادہ دستیاب ہوں گے، البتہ دیگر لیگز کے ساتھ تاریخیں ٹکرائیں گی اور اس دوران رمضان المبارک بھی ہوگا۔ اپریل، مئی میں تاریخیں آئی پی ایل سے متصادم تو ہوں گی لیکن کئی پلیئرز مکمل ایونٹ کیلیے مل سکیں گے، البتہ موسم گرم ہونے کے ساتھ بچوں کے امتحانات بھی چل رہے ہوں گے۔ دونوں آپشنز پر کرکٹ کمیٹی مزید بات کرے گی جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک فرنچائز اونر نے تجویز دی کہ ریٹینشن اور آکشن اگست میں ہی کرالیں اس سے زیادہ کرکٹرز مل سکتے ہیں، ایک اونر نے کہا سیلری کیپ کم کریں، اسے بڑھانے سے مالکان پر بوجھ پڑگیا ہے۔ میٹنگ میں رواں سال ہی پی ایس ایل سپر سکسز  کی تجویز بھی سامنے آئی تاہم مالی معاملات حل ہونے کے بعد ہی اس پر عمل کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کا معاملہ میٹنگ میں زیرغور آیا، جب اس کے نمائندے نے میٹنگ میں کوئی بات کہی تو انہیں ڈیفالٹ ہونے اور ذمہ داریاں یاد دلائی گئیں۔ حکام نے اونرز سے کہا کہ انہیں مزید تکلیف نہیں برداشت کرنے دی جائے گی، ایک پارٹی لیگ خراب نہیں کر سکتی۔ مالکان نے بھی کہا کہ جب ہماری پیمنٹ میں تاخیر ہو تو ایکشن لیا جاتا ہے اسی طرح مذکورہ کمپنی کیخلاف بھی کارروائی کریں جس پر ہفتے اور اتوار کو بورڈ کی میٹنگ کے بعد پیر تک مسئلہ حل  کرنے کا کہا گیا ہے۔ ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ اگر ایک کمپنی ٹیم اونر ہونے کے ساتھ کسی معاہدے کی بھی حامل ہو اور ادائیگی نہ کر سکے تو اس کی فرنچائز فیس سے دیگر ٹیموں کے واجبات کلیئر کیے جائیں۔ پی سی بی نے دوران میٹنگ تمام اونرز کو پاک انگلینڈ لارڈز ٹیسٹ دیکھنے کی دعوت دیتے ہوئے قیام و سفری اخراجات بھی خود برداشت کرنے کا اعلان کیا۔ حیدرآباد کنگز مین کے اونر فواد سرور نے قومی ٹیم کی کارکردگی اور مینجمنٹ کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پی سی بی حکام سے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ میں اچھا پرفارم کرے تب ہی پی ایس ایل بھی ترقی کرے گی، کارکردگی میں بہتری کیلیے بورڈ اقدامات کرے ورنہ سرمایہ کاری کم ہونے لگے گی۔ فواد سرور نے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید اور وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ عاقب جاوید کو میڈیا سے بات کرانے کی ٹریننگ دلائی جائے، جب وہ خود اپنی ٹیم سے زیادہ امیدیں نہ لگائیں اور  ٹیلنٹ کی کمی کا رونا روئیں تو دوسرے سے کیا شکوہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ہیسن بھی ٹیم کے خراب ریکارڈز ہی دکھا رہے ہوتے ہیں، ٹیم کو چلانے والے لوگ اہل نہیں ہیں، پلیئرز کو بھی ہارنے کی عادت ہو چکی ہے، 8 سے 9 موجودہ کھلاڑیوں کو نکال کر نئے پلیئرز ٹیم میں شامل کرنے چاہیئں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل