Loading
جنوبی ایشیا کے ممالک جن میں بھارت،بنگلہ دیش،سری لنکا،مالدیپ اور پاکستان نمایاں ہیں وہاں گورننس کے مسائل سے ہماری اب نئی نسل گزر رہی ہے۔نئی نسل کی نئی ڈیموگرافی نے ان ممالک کی سیاسی اور انتظامی جہتوں کو تبدیل کردیا ہے مگر ان ریاستوں کا سیاسی نظام ان نئی جہتوں کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔اس نئی ڈیموگرافی میں 15سے 35برس کے نوجوان اب ایک نئی سیاسی اور سماجی طاقت کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں ۔ان کے لیے ٹیکنالوجی کے اس دور میں ڈیجیٹل میڈیا نے ایک نئی دنیا آباد کی ہے۔
یہ نسل روائتی الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا پر انحصاری کی دنیا سے باہر آگئی ہے۔ان کے پاس اپنے خیالات کی فکر ،سوچ اور اظہار کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کی صورت میں ایک نئی طاقت میسر آگئی ہے۔ یہ نسل اپنی اپنی ریاستوں کی سطح پر موجود حکمرانی کے نظام کوبھی چیلنج کر رہی ہیں ۔وہ سیاسی ،سماجی ،معاشی اور قانونی سمیت انتظامی بنیادوںپر بنیادی تبدیلیاں بھی چاہتی ہیں۔وہ خود کو مضبوط بالخصوص معاشی طور پر خوشحال دیکھنا چاہتی ہیں ۔وہ سمجھتی ہیں کہ ہماری ریاست کا فرسودہ ،روائتی اور ذاتی مفادات پر مبنی حکمرانی کا نظام ان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ تبدیلی کی اس لہر میں اب یہ نئی نسل محض لڑکوں تک محدود نہیں بلکہ پڑھی لکھی لڑکیاں بھی اس مزاحمتی تحریک کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔اس کی ایک بڑی جھلک ہم نے بنگلہ دیش،بھارت اور پاکستان کے عام انتخابات کے موقع پر دیکھی ہے جس میں لڑکیوں نے بھی اس مزاحمتی عمل میں اپنا حصہ ڈالا ہے ۔کیونکہ مسائل محض لڑکوں کی ترقی تک محدود نہیں رہے بلکہ معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکیوں کے بھی معاشی مسائل اور معاشی امکانات نہ ہونے پر ان میں سخت ردعمل دیکھا جارہا ہے۔
ممکن ہے کہ جو کچھ بنگلہ دیش،سری لنکا، مالدیپ اور پاکستان میں ہورہا ہے یا دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ایک دوسرے سے مختلف ہو اور ان کی عملی سطح پر وجوہات بھی مختلف ہوں۔لیکن ایک مشترکہ چیز جو دیکھنے کو مل رہی ہے ان ملکوں میں وہ اپنے اپنے نظام سے ناراضگی،نالاں اور لاتعلقی کا احساس ہے ۔وہ اپنے بنیادی نوعیت کے مسائل پر پریشان ہیں۔ان مسائل میں تعلیم اور صحت کے حصول میں ناکامی اور مہنگی تعلیم اور صحت ،معاشی امکانات میں کمی ،عدم روزگار، گورننس کے مسائل،آزادی اظہار کی کمی،انسانی حقوق کی پامالی،حقوق کے نام پر طاقت کے استعمال کا ہونا،فکری پابندیاں جیسے مسائل ہر جگہ سرفہرست ہیں۔
اس نئی نسل نے جو 18-35برس کی ہے اس نے جہاں انتظامی ڈیموگرافی پر فرق ڈالا ہے وہیں سیاسی عمل میں ان کی دلچسپی،بطور ووٹرز حصہ لینا، سیاسی جماعتوں میں شمولیت،سیاسی سوالات اٹھانا، بطور ووٹر سامنے آنا اور سیاسی مہم میں حصہ لینے نے روائتی سیاسی جماعتوں اور قیادت کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ان میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔خاص طور پر ہم کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر اٹھنے والی تحریکوں کو دیکھیں تو اس کی بڑی مثال بنگلہ دیش اور بھارت میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔
یہ ہی وجہ ہے یہ نئی نسل سیاسی جماعتوں اور قیادت کے لیے درد سر بن گئی ہیں اور وہ ان کو روائتی طور طریقوں سے اپنے قریب لانا چاہتی ہیں مگر نئی نسل ان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔کیونکہ ان کا سیاسی ماڈل موروثی اور خاندانی سمیت دولت اور اختیار کی بنیاد پراپنا وجود رکھتا ہے جس میں نئی نسل کے لیے کچھ نہیں ہے۔ہمارے یہاں جین زی کے بارے میں بہت سی رائے پائی جاتی ہے،ایک یہ آوارہ یا بے روزگار لوگ ہیں جو بھارت کے چیف جسٹس نے بطور کاکروچ لفظ کے طور پر ان کو یاد کیا۔دوئم، ہم اسے کوئی منظم تحریک نہیں سمجھتے بلکہ اس کو ایک سیاسی ہجوم کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور بقول ان کے کچھ عرصہ بعد یہ ہجوم آگے جاکر پانی کا بلبلہ ثابت ہوگا۔سوئم، ریاست اور حکومت کی بڑی طاقت کے سامنے یہ زیادہ عرصہ تک اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکیں گی۔
چہارم، ان کو کنٹرول کرنے کے لیے ریاست اور حکومت نے عملی طور پر ڈیجیٹل قانون کو اتنا سخت کردیا ہے کہ یہ مزید آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ یہ سب مفروضے پیش کررہے یا تو وہ سیاسی اور سماجی حقایق سے آگاہ نہیں یا وہ اس طرح کے ردعمل کی دور اندیشی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نئی نسل کی بنیاد پر کوئی بڑی سیاسی تحریک نہیں لیکن یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ انھوں اپنی چھوٹی موٹی آوازوں سے نہ صرف معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی اپنے قریب کیا ہے اور ریاست یا حکومت کے نظام سے کچھ اپنی باتیں بھی منوائی ہیں جن میں بنگلہ دیش اور بھارت کی مثالیں موجود ہیں ۔ ہم نے پاکستان میں8فروری 2024کے انتخابات میں بھی نوجوانوں اور لوگوں کا ایک پبلک سوموٹو کا مظاہرہ بھی دیکھا جو اس تاریخ کا حصہ ہے۔
جین زی کی تحریک کم نہیں بلکہ بڑھ رہی ہے اور اس کا دائرہ کار دیگر ملکوں تک بڑھ رہا ہے اور اس کی متبادل آوازوں کو عملی طور پر نئی طاقت مل رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کے نظام سے جڑے فیصلہ ساز افراد یا اہل دانش کی سطح پر یہ غور کیا گیا کہ اس نئی نسل کے مسائل کیا ہیں اور کیسے ہم نے اپنی حکمرانی کے نظام میں اس کو جوڑ کر حل کرنا ہے اور اس نسل کے ساتھ خود کو علیحدہ کرنے کی بجائے خود کو ان سے جوڑنا ہے اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ان کے خلاف طاقت نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔ان میں جو خلیج حکمرانی کے نظام کے بارے میں موجود ہے اسے ختم کرنا ہوگا۔
اس بات کو بھی سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل کی ان تحریکوں کو جمہوری تحریکوں کے طور پر دیگر ریاستی ملکوں میں تسلیم کیاجا رہا ہے۔وہاں کی اپوزیشن سیاسی جماعتیں ،میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت مختلف شعبہ جات کی ان کو حمایت بھی مل رہی ہے۔کیونکہ یہ طبقات سمجھتے ہیں کہ نئی نسل کے مسائل کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے اور ان کے مسائل کی ہر سطح پر حمایت ہونی چاہیے۔بلکہ اب تو کئی سیاسی جماعتیں اس جین زی کی حمایت کی حصول میں نہ صرف سرگرم نظر آتی ہیں بلکہ مختلف سطح پر ان کی حمایت میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ان کو سیاسی بنیادوں پر اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہیں۔اس کی مثالیں ہم پاکستان کی سیاست میں خوب دیکھ رہے ہیں کہ نوجوانوں نے بطور ووٹر خود کو ایک بڑی طاقت کے طور پر سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کیا ہے۔
اصل میں جین زی جیسی تحریکوں کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تمام ریاستیں اور حکمران اپنی اپنی حکمرانی کے انداز کو تبدیل کریں اور نئی نسل کی توقعات ، خواہشات اور ضرورت کی بنیاد پر اپنے نظام کی تشکیل نو کریں۔وگرنہ تمام ریاستوں کی سطح پر نئی نسل میں جو بے چینی اور معاشی بدحالی یا بری گورننس پر تحفظات ہیں یہ کم نہیں بلکہ مسلسل بڑھتے جائیں گے اور ا س نظام کو چیلنج ہر سطح پر کیا جائے گا۔یہ جو سوچ ہے کہ ہم طاقت کی بنیاد پر جین زی کو دبا دیں گے یہ آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔2026 کے حالات میں اب لوگوں کو محض طاقت کی بنیاد پر کنٹرول نہیں کیا جاسکے گا بلکہ اس کا مزید شدید ردعمل دیکھنے کو ملے گا اور اس حکمت عملی سے گریز کیا جانا چاہیے۔کیونکہ یہ سمجھنا کہ ڈیجیٹل میڈیا پر پابندی یا سخت قوانین بناکر ہم نئی نسل کی متبادل آوازوں کو ختم یا دبا سکتے ہیں ممکن نہیں ہوگا۔ حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے حالات بھی اچھے نہیں اور یہاں کے نوجوانوں کو دیگر ممالک کی طرح سنگین مسائل کا سامنا ہیں۔
لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں باہر چلے گئے ہیں اور لاکھوں نوجوان باہر جانا چاہتے ہیں اور جس طرح سے ان کے سیاسی حقوق پر ضرب لگائی جا رہی ہے وہ ایک علیحدہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔ہمارے داخلی حالات کی خرابی کا اثر ملک کی مجموعی ترقی پر ہورہا ہے اور پھر اس کا منفی اثر نئی نسل پر ہورہا ہے جو ان کی ترقی کو متاثر کرتا ہے۔اس لیے نئی نسل یا جین زی کو اپنا دشمن بنانے کی بجائے ان کو حکمران اپنی طاقت بنائیںاور ان کے مسائل کے ساتھ کھڑے ہوں۔ چھوٹے صوبوں کے مسائل کو بھی سمجھنا ہوگا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں ۔ اگر ہم نے سیاسی،جمہوری،آئینی ،قانونی بنیادوں پر معاشرہ کو تبدیل کرنا ہے تو پھر ہمیں ان ہی راستوں کو بنیاد بنا کر اپنی سیاسی حکمت عملی کو ترتیب دینا ہوگا۔کیونکہ اتنی بڑی نئی نسل کو ہم کسی بھی طور پر نظرانداز کرکے کسی بھی ترقی کے ماڈل کو اختیار نہیں کرسکتے۔آئین جو بنیادی حقوق شہریوں کو دیتا ہے اس کی پاسداری کی بنیاد پر ہی ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل