Wednesday, August 05, 2026
 

مذاکرات حوصلہ افزا ہیں لیکن آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران پر سخت حملہ ہوگا؛ ٹرمپ

 



امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے معاہدے پر بات چیت آج سارا دن جاری رہے جسے صدر ٹرمپ نے حوصلہ افزا قرار دیا ہے تاہم ساتھ ہی سخت حملوں کی دھمکی بھی دی۔ وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ دن بھر کے مثبت مذاکرات کے بعد امید ہے آبنائے ہرمز بہت جلد دوبارہ کھول دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں دو بنیادی نکات اوّل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور دوم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کا کلّی حل شامل ہیں۔ یہ معاہدہ جلد طے پانے کی توقع ہے لیکن ابھی چند اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ امریکا جواب میں ایران پر بہت سخت حملہ کرے گا۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں دوسری یا متبادل راہداری کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی غیر ملکی جنگی جہاز یا فوجی طاقت اس علاقے میں ایرانی شرائط کے برخلاف داخل ہونے کی کوشش کرے گی اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ ادھر سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ایک ایسے مسودۂ معاہدے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کی جا سکتی ہے تاہم بحری راستوں کے انتظام، معائنہ، فیس اور سیکیورٹی انتظامات پر ابھی اتفاق نہیں ہو سکا۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس لیے اس کی بندش یا کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل