Loading
بالی ووڈ اداکار راج پال یادو ایک بار پھر قانونی اور مالی مشکلات میں گھر چکے ہیں۔
سینٹرل بینک آف انڈیا نے 16.61 کروڑ روپے کے مبینہ قرض کی عدم ادائیگی پر اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور میں واقع ان کی آبائی جائیداد کے خلاف ریکوری کارروائی شروع کر دی ہے۔ واجبات ادا نہ کرنے کی صورتحال میں جائیداد کی نیلامی 9 ستمبر کو کی جائے گی۔
ریکوری کارروائی کے تحت شاہجہاں پور کے گاؤں کندرا میں واقع اداکار کے آبائی گھر پر اٹیچمنٹ نوٹس بھی چسپاں کر دیا گیا ہے۔
بینک حکام کے مطابق یہ قرض ممبئی برانچ سے راج پال یادو کی اہلیہ رادھا یادو اور والدہ گوداوری کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ تقریباً دو سال قبل بھی اسی جائیداد پر نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد قرض کی ادائیگی سے متعلق ایک معاہدہ ہوا، تاہم واجبات مکمل طور پر ادا نہ ہونے پر کارروائی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
راج پال یادو کے بڑے بھائی شری پال یادو نے کہا ہے کہ ’’یہ پرانا معاملہ ہے اور بینک کے ساتھ قرض کی ادائیگی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، معاملہ جلد حل ہو جائے گا اور فی الحال جائیداد کی نیلامی کی نوبت نہیں آئے گی۔‘‘
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ دہلی ہائی کورٹ نے چیک باؤنس کے متعدد مقدمات میں راج پال یادو کو تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ مقدمات ان کی 2010 کی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کی پروڈکشن کے لیے لیے گئے قرض سے متعلق ہیں، جس کی عدم ادائیگی کے بعد قانونی کارروائیاں شروع ہوئیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل