Loading
ایک اہم واقعہ، 21 اپریل 2026 کو MT Honour 25 کی ہائی جیکنگ کا پیش آیا۔ اس بحری جہاز پر 10 پاکستانیوں سمیت کل 17 افراد تھے جو سو سے زائد دن گزر جانے کے باوجود ابھی تک بحری قزاقوں کی قید میں ہیں۔ ان قیدیوں میں سیداذہان کاشف کے والد سیکنڈ آفیسر سید کاشف عمر بھی شامل ہیں۔
سیداذہان کاشف میرے بیٹے کا دوست بھی ہے۔میرے بیٹے کا کہنا ہے کہ جب سے یہ واقعہ پیش آیا ہے، اذہان سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ سیداذہان کاشف کا پورا گھرانہ بھی اس وقت سخت ذہنی اذیت سے دوچار ہے جس میں یہ پانچ بہن بھائی اور ان کی والدہ شامل ہیں۔ ریحان کو اپنے والد کی ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس میں وہ بحری قزاقوں کی قید میں سخت بھوک اور خراب حالات سے دوچار تھے۔ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد اس کے سب ہی گھر والے مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں اور دن رات بس یہی انتظار کرتے ہیں کہ کب کوئی اچھی خبر آئے گی۔
ان پاکستانیوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے امین بن شمس بھی شامل ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امین کی ایک چھوٹی بیٹی ہے اور ایک بیٹا ایسا ہے جس نے اپنے والد کو ابھی تک دیکھا تک نہیں۔ امین دسمبر میں اپنے پہلے کنٹریکٹ پر گئے تھے اور 21اپریل کو ان کا جہاز قزاقوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہاں سوال صرف امین یا سید کاشف عمر کا نہیں یہ دس پاکستانی خاندانوں کا سوال ہے۔ان دس گھروں کے دروازے شاید آج بھی اسی امید پر کھلتے ہیں کہ شاید فون آئے گا۔ شاید دوسری طرف سے کسی اپنے کی آواز سنائی دے گی۔ شاید کوئی کہے گا کہ ’’ہم خیریت سے ہیں، ہمیں آرہے ہیں۔‘‘
آج اس واقعے کو 100 سے زیادہ دن گزر چکے ہیں۔ایک عام انسان کے لیے یہ صرف تین ماہ سے کچھ زیادہ کا عرصہ ہے، لیکن جس شخص کا کوئی عزیز سمندر کے بیچ مسلح افراد کے قبضے میں ہو، اس کے لیے ایک دن بھی شاید ایک صدی کے برابر ہو جاتا ہے۔امین بن شمس اور دیگر تمام قیدیوں کے گھر میں بھی وقت اسی طرح رکا ہوا ہے،مگر سمندر کے اس پار سے آنے والی آوازیں اب بھی تشویشناک ہیں۔ اس اغوا شدہ جہاز کے عملے کی طرف سے ایسی اپیلیں سامنے آ چکی ہیں جن میں خوراک، صاف پانی اور ادویات کی کمی کی شکایات کی گئی ہیں۔ جون میں جہاز کے انڈونیشین کپتان کی ایک ویڈیو اپیل بھی سامنے آئی جس میں عملے کی انتہائی خراب حالت بیان کی گئی تھی۔ جولائی کے آخر تک بھی معاملہ حل نہیں ہو سکا تھا۔
یہ صرف قزاقی کا واقعہ نہیں، یہ انسانی زندگی کی قیمت کا سوال بھی ہے۔اس معاملے میں ایک بات واضح رہنی چاہیے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت پاکستان نے کچھ نہیں کیا۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے 30 اپریل کو تصدیق کی تھی کہ MT Honour 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے قریب ہائی جیک کیا گیا اور اس پر 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ پاکستانی سفارتخانے نے صومالی حکام سے رابطہ کیا اور جہاز کے کسی ساحل کے قریب موجود ہونے کی معلومات حاصل کیں۔
جون میں وزارت خارجہ نے بھی بتایا کہ پاکستانی شہری صومالی قزاقوں کی تحویل میں ہیں اور پاکستانی حکام صومالی حکومت، جہاز کے مالک اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رہائی کے لیے رابطے میں ہیں۔پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی صومالی وزیر خارجہ سے اس معاملے پر بات کی اور پاکستانی عملے کی محفوظ اور جلد رہائی پر زور دیا،لیکن خاندانوں کا دکھ اپنی جگہ حقیقت ہے کیونکہ سو دن سے اوپر ہو چکے ہیں،ان کا سوال یہ ہے کہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا نتیجہ آخر کب نکلے گا؟
خبر میں صرف 10 ’’ پاکستانی‘‘ کہہ دینا آسان ہے، لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہے،ایک شوہر، ایک باپ،ایک بیٹا،ایک بھائی،ایک دوست۔ان میں سے کسی کی ماں روز دروازے کی طرف دیکھتی ہوگی۔ کسی کا بچہ اپنے باپ کے بارے میں پوچھتا ہوگا۔ کسی کی بیوی فون کی گھنٹی سنتے ہی چونک جاتی ہوگی اور شاید سب سے زیادہ اذیت ناک بات یہ ہے کہ ان خاندانوں کے پاس انتظار کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ان پاکستانیوں کے اہل خانہ کے مطابق ان کے مرد اپنے خاندان سے باقاعدگی سے رابطہ رکھتے تھے، سمندر کی ویڈیوز بھیجتے تھے، اپنی روزمرہ زندگی کے بارے میں بتاتے تھے۔ پھر اچانک وہ رابطہ ایک خوفناک خبر میں تبدیل ہوگیا۔
بات یہ ہے کہ کسی قیدی کے لیے 103 دن، 103 دن نہیں ہوتے، 103 صبحیں ہوتی ہیں، 103 راتیں،103 مرتبہ سورج کا طلوع ہونا، 103 مرتبہ سورج کا غروب ہونااور 103 مرتبہ کسی ماں، بیوی یا بچے کا یہ سوچنا کہ ’’آج شاید وہ واپس آجائے۔‘‘اسی لیے اس مسئلے کو صرف ایک سفارتی فائل یا سمندری سیکیورٹی کا معاملہ سمجھنا کافی نہیں،یہ انسانی مسئلہ ہے۔ یہ پاکستانی شہریوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔یہ ان خاندانوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے جن کی زندگی اپنے پیاروں کی واپسی کے انتظار میں معطل ہو چکی ہے۔
صومالی قزاقی کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ کئی برس کی بین الاقوامی کوششوں کے بعد اس خطے میں بحری قزاقی میں نمایاں کمی آئی تھی، مگر حالیہ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔اس جہاز کا واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ایک ہی جہاز پر پاکستانی، انڈونیشین، سری لنکن، میانمار اور بھارتی شہری موجود تھے۔ یعنی یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سمندری سلامتی کا مسئلہ ہے۔ایسے حالات میں صرف پاکستان کو نہیں بلکہ صومالی حکومت، جہاز کے مالک، متعلقہ بین الاقوامی بحری اداروں اور ان تمام فریقوں کو اپنی ذمے داری پوری کرنی چاہیے جن کے پاس ان افراد کی رہائی کے لیے اثر و رسوخ موجود ہے۔
حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ان پاکستانی شہریوں کی رہائی کو اپنی سفارتی ترجیحات میں انتہائی اہم مقام دے، خاندانوں کے لیے ایک واضح اور مستقل فوکل پوائنٹ قائم کرے اور انھیں باقاعدگی سے پیش رفت سے آگاہ کرے نیز اپنی تمام تر کوششیں تیز تر کرے کیونکہ وقت بہت ہو چکا ہے ان خاندانوں کا صبر اور حوصلہ اب جواب دے رہا ہے۔حکومت سے سوال کرنا ان خاندانوں کا حق ہے اور ان خاندانوں کو مطمئن کرنا حکومت کی بھاری ذمے داری ہے، حکومت کو ان خاندانوں کے ساتھ کھڑا بھی ہونا چاہیے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مذاکرات تیز کیے جائیں، تمام ممکنہ سفارتی راستے استعمال کیے جائیں اور ان پاکستانیوں کی محفوظ، باعزت اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے کیونکہ سمندر کے بیچ قید یہ دس پاکستانی صرف دس نام نہیں ہیں ،یہ ہمارے لوگ ہیں۔ ان کے گھروں میں کوئی ان کا انتظار کر رہا ہے۔کوئی بچہ ان کے قدموں کی آہٹ سننے کے لیے بے تاب ہے۔کوئی ماں ان کی سلامتی کے لیے دعا کر رہی ہے اور کوئی بیوی شاید آج بھی موبائل فون ہاتھ میں لیے اس ایک کال کی منتظر ہے جس میں دوسری طرف سے صرف اتنا کہا جائے،’’میں خیریت سے ہوں، میں واپس آرہا ہوں۔‘‘100 سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ مگر امید ابھی زندہ ہے اور جب تک ایک پاکستانی بھی اپنے گھر واپس نہیں آتا، اس امید کو زندہ رہنا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل