Loading
سائنس دانوں نے ایسی نئی ویکسین کے پہلے انسانی تجربات میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو فریج کے بغیر بھی محفوظ رہ سکتی ہے اور دنیا بھر میں ویکسین کی ترسیل کو آسان بنا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایس پی وی ایکس 02 نامی ٹیٹنس اور ڈفتھیریا بوسٹر ویکسین کے پہلے مرحلے (فیز ون) کے کلینیکل ٹرائل میں ثابت ہوا کہ یہ ویکسین 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں کم از کم 24 ماہ تک مؤثر اور قابلِ استعمال رہ سکتی ہے۔ اس ویکسین کی تیاری میں اسٹیبلیوا ایکس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔
اس وقت دنیا کی زیادہ تر ویکسینز کو استعمال تک مخصوص درجہ حرارت پر، عموماً مسلسل ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نظام کو کولڈ چین کہا جاتا ہے، جو گرم علاقوں، دور دراز مقامات اور محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں ویکسین پہنچانے میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
زیادہ گرمی یا منجمد درجہ حرارت ویکسین کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے اضافی اخراجات، نقل و حمل کے مسائل اور ویکسین ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں بجلی کی کمی، کمزور انفراسٹرکچر اور دشوار جغرافیائی حالات ویکسین کی فراہمی کو مشکل بناتے ہیں۔
فیز ون انسانی آزمائش میں صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں یا تو ایس پی وی ایکس 02 ویکسین دی گئی یا موجودہ منظور شدہ ویکسین سے موازنہ کیا گیا۔ محققین کے مطابق ایس پی وی ایکس 02 لینے والے افراد میں مدافعتی ردعمل موجودہ ویکسینز کے برابر رہا جبکہ کسی سنگین مضر اثر کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید مراحل میں یہ ویکسین کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ دنیا کے ایسے علاقوں تک ویکسین پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے جہاں کولڈ اسٹوریج کی سہولیات محدود ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل