Loading
جنوبی کوریا کی فٹبال ایسوسی ایشن نے پرانے انتہائی متنازع اسکینڈل پر معافی مانگ لی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کی فٹبال ایسوسی ایشن نے ایک میڈیا رپورٹ کے بعد معذرت کی ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل غیر ملکی ریفریز کے دورۂ کوریا کے دوران انہیں نامناسب تفریح اور مبینہ جنسی خدمات فراہم کی گئی تھیں۔
جنوبی کوریائی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ واقعات 2011 اور 2012 کے دوران کئی مواقع پر پیش آئے، جن میں 2014 ورلڈکپ اور 2012 لندن اولمپکس کے کوالیفائنگ مقابلوں کے لیے آنے والے ریفریز بھی شامل تھے۔
رپورٹ میں 2016 کی وزارتِ کھیل کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مارچ 2011 سے مارچ 2012 کے درمیان غیر ملکی ریفریز کو سات مرتبہ نامناسب تفریح فراہم کی گئی جس میں مبینہ طور پر ایسے مساج مراکز کے دورے بھی شامل تھے جہاں جنسی خدمات کے اخراجات ادا کیے گئے۔
جنوبی کوریا کی فٹبال ایسوسی ایشن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کا کوئی عمل یا کارپوریٹ کارڈز کا ایسا استعمال اب نہیں ہو رہا۔
دریں اثنا، ایسوسی ایشن کو سابق قومی کوچ ہونگ میونگ بو کی تقرری پر بھی تحقیقات کا سامنا ہے۔
پولیس نے جمعرات کو جنوبی کوریا کی فٹبال ایسوسی ایشن کے دفتر پر چھاپہ مارا جبکہ کوچ کی تقرری پہلے ہی شدید تنقید کی زد میں تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل