Loading
غازی آباد پولیس اسٹیشن میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس سے متعلق ابتدائی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی جس میں لڑکی کے ساتھ زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔
مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار پولیس اہلکار عمران کا بیان بھی سامنے آگیا۔
پولیس اہلکار عمران کے مطابق لڑکی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بھیک مانگتی تھی، لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو متعدد بار بھیک مانگنے سے روکا، بھیک مانگنے سے باز نہ آنے پر لڑکی کو ڈرانے کے لیے پولیس اسٹیشن لایا۔
اہلکار عمران کے مطابق لڑکی کو کچھ دیر پولیس اسٹیشن میں رکھا، بعد ازاں رونے پر والدین کے پاس واپس بھیج دیا۔
پولیس اہلکار کے بیان اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں، حتمی صورتحال فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد واضح ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل