Loading
بیروت: لبنان کی پارلیمنٹ نے سزائے موت ختم کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد لبنان مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں سزائے موت کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔
لبنانی پارلیمنٹ نے منگل کے روز قانون میں ترامیم کے بعد سزائے موت کے خاتمے کی منظوری دی۔ نئے قانون کے تحت سزائے موت کی جگہ عمر قید بامشقت دی جائے گی۔
لبنان کے وزیر انصاف عادل نصار نے پارلیمانی ووٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت کا خاتمہ لبنان کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے لبنان خطے اور عالمی سطح پر اپنی قائدانہ حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
وزیر انصاف نے بعد ازاں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت ختم کرنے کے فیصلے کو جرائم کے حوالے سے نرمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کسی مجرم کو معاف کرنے کے بجائے ریاست کی جانب سے قتل کے عمل کو مسترد کرنے کا اظہار ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قانون کی منظوری سے قبل لبنان میں 85 افراد سزائے موت کے منتظر تھے۔ تنظیم نے قانون کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق لبنان میں آخری مرتبہ سزائے موت پر عملدرآمد 17 جنوری 2004 کو کیا گیا تھا۔ اس کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ملک میں کسی شخص کو سزائے موت نہیں دی گئی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی لبنان کو قانون کی منظوری پر مبارکباد دی۔ انہوں نے دنیا کے ان ممالک سے بھی اپیل کی جو اب تک سزائے موت برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ وہ لبنان کی پیروی کرتے ہوئے اس سزا کو ختم کریں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی لبنان کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
لبنان کے وزیر انصاف کے مطابق سزائے موت ختم کرنے کے بعد ایسے ممالک بھی لبنانی عدالتوں سے سزا پانے والے مفرور ملزمان کی حوالگی کے معاملے میں زیادہ تعاون کر سکیں گے جہاں سزائے موت کے خدشے کی وجہ سے حوالگی سے انکار کیا جاتا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل