Wednesday, August 12, 2026
 

بھارت؛ بوائے فرینڈ کیساتھ گاڑی میں جانے والی خاتون سے 6 افراد کی اجتماعی زیادتی

 



بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع کٹک میں ایک خاتون کو 6 افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مذکورہ خاتون اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ بھوبنیشور سے کیندرپاڑا کی جانب اپنی گاڑی میں جا رہی تھی جب ملزمان نے انھیں روک کر حملہ کردیا۔ حملہ آوروں نے پہلے خاتون کے دوست کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد خاتون کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد ملزمان دونوں کو وہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ خاتون کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ کٹک رورل کے ایس پی ونیٹ اگروال نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی رینک کے افسر کو مقرر کیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور انہیں جلد گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ریاست اڑیسہ میں کٹک کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی مختلف ریاستوں میں خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جولائی میں مغربی بنگال میں ایک 11 سالہ بچی کو مبینہ طور پر اغوا، زیادتی اور قتل کیے جانے کے واقعے پر ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ اسی دوران راجستھان میں ایک 12 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر کئی افراد نے کئی روز تک مختلف مقامات پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ غازی آباد میں 7 سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کا واقعہ بھی سامنے آیا۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4 لاکھ 41 ہزار 534 مقدمات درج ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں تقریباً 1.5 فیصد کم تھی تاہم مجموعی تعداد اب بھی انتہائی بلند سطح پر ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھارت میں 29 ہزار 536 ریپ کیسز درج ہوئے یعنی اوسطاً روزانہ 80 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے۔ ان میں سے 28 ہزار 752 متاثرہ خواتین کی عمریں 18 سال یا اس سے زیادہ جبکہ 784 متاثرین 18 سال سے کم عمر تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ریپ یا اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے 266 مقدمات بھی درج ہوئے جو جنسی تشدد کی سنگین نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2024 میں پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسچوئل آفنسز ایکٹ کے تحت 69 ہزار 191 مقدمات درج ہوئے جو اس حوالے سے اب تک کی بلند ترین سطحوں میں شامل ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ سماجی بدنامی، متاثرہ افراد کو موردِ الزام ٹھہرانے کے رجحان اور پولیس و عدالتی نظام کی رکاوٹوں کے باعث بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل