Sunday, August 16, 2026
 

آٹزم (Autism)

 



کتاب کا ایک اور حصہ جو اس بحث کو ایک بالکل نیا رخ دیتا ہے وہ ہے گمشدہ تاریخ کا تصور۔ وہ تاریخ جسے کبھی لفظوں میں قید نہیں کیا گیا جیسا کہ جنت کی تاریخ والا حصہ۔ وہ حصہ تو بہت دلچسپ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جغرافیائی دریافتوں نے انسانی سوچ اور عقیدوں کو کیسے بدلا۔ اٹلی کے جہازران میں ریگو بس کو نے جب برازیل میں نیا ان دیکھا علاقہ دریافت کیا جہاں سرسبز درخت تھے۔ یہ واقعہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ انسان کے خیالات اور اس کے تصورات اور میتھالوجیکل عقائد نئے تجربات کے ساتھ کیسے بدلتے ہیں اور دیکھیں یہ تصور کسی ان دیکھی جنت تک محدود نہیں ہے۔ گمشدہ تاریخ میں ان اشخاص کا ذکر بھی آتا ہے جنہوں نے کبھی بڑی عمارتیں مینار یا قلعے تعمیر نہیں کیے۔ جیسا کہ خانہ بدوش قبیلے روایتی تاریخ میں ان خانہ بدوشوں کا ذکر نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ کیونکہ ان کی موجودگی کا کوئی ٹھوس ثبوت مورخین کو نہیں ملتا۔ کیونکہ انھوں نے کوئی محل یا قلعہ بنایا ہی نہیں تھا۔ ایک سچا مورخ صرف ٹوٹے ہوئے کھنڈرات نہیں ڈھونڈتا بلکہ وہ ان لفظوں اور آوازوں کو بھی سنتا ہے جو سینہ بہ سینہ گیتوں کے ذریعے سے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہیں۔ یہ خیال کتنا عظیم ہے کہ تاریخ صرف پتھروں اور قلعوں کی دیواروں اور بادشاہوں کے بند درباروں میں قید نہیں۔ تاریخ تو کسان کی مٹی میں، خانہ بدوش کے رقص میں اور مقامی عورتوں کے لوک گیتوں میں بھی دھڑکتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی شعور کو پوری طرح مٹایا نہیں جا سکتا۔ وہ اپنا راستہ کہیں نہ کہیں سے نکال لیتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ اہم سبق ملتا ہے کہ تاریخ صرف اعلیٰ طبقے کی کامیابیوں یا بادشاہوں کے گزرے وقت کی فہرست کا نام نہیں ہے۔ یہ انسانیت کے اجتماعی شعور اور مسلسل بدلتے ہوئے تجربات کا لمبا سفر ہے اور آج کے مورخ کا اصل امتحان یہ ہے کہ ان تمام بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جمع کر کے ایک ایسی مکمل تصویر بنائے جس میں صرف محل کی روشنی نہ ہو بلکہ عام جھونپڑیوں کا سچ بھی شامل ہو۔ اگر اس پوری بحث کو آج کے دور میں لایا جائے تو تصویر مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ آج ہم سوشل میڈیا، ڈیجیٹل دنیا، تیز ترین کمپیوٹر الگورتھم اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں جی رہے ہیں۔ "آج کا دور واقعی بہت مشکل ہے۔ یہاں پر ہر دن لاکھوں ، کروڑوں الفاظ کی معلومات پیدا ہو رہی ہیں۔ کیا اس دیوانہ پن کی حد تک بڑھتی ہوئے ٹیکنالوجی نے تاریخ اور سچ کو سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ یا پھر سیاسی پروپیگنڈہ ، جھوٹی خبروں اور الگورتھم کے ذریعے تاریخ کو مسخ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور آسان ہو گیا ہے"۔ یہ آج کی نئی نسل کا سب سے سنگین سوال ہے۔ ماضی میں تاریخ کو تبدیل کرنے کے لیے کتابیں جلانا پڑتی تھیں۔ آج بھی اسی سے ملتی جلتی چیز ہو رہی ہے۔ نئے نصاب بنانے پڑتے تھے جس میں سالوں کا وقت لگتا تھا۔ یہ ایک لمبا پروسیس تھا۔ لیکن آج کے دور میں ایک الگورتھم اور چند واٹس مل کر محض چند گھنٹوں میں کسی بھی جھوٹی خبر کو یکدم تاریخی حقیقت بنا کر عوام کے دلوں میں بٹھا سکتے ہیں"۔ ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تاریخ پر ہمیشہ سے طاقتور کا اثر رہا ہے۔ لیکن آج اس اثر کی رفتار اتنی تیز ہے کہ عام فرد کے لیے سچ اور جھوٹ کا فرق کرنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے"۔ ایسے حالات میں فکری آزادی اور تنقیدی سوچ کی ضرورت جو آج ہے وہ ماضی میں شاید کبھی نہیں تھی۔ اگر اسی پینٹنگ والی مثال کی طرف واپس جائیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آج کل ہر شخص ، ہر سیاسی دھڑا اس تاریخ کی پینٹنگ پر اپنا مخصوص رنگ چڑھا رہا ہے۔ جہاں اصل تصویر پوری طرح چھپ چکی ہے۔ ذرا تصور کریں جب مستقبل کے مورخین آج سے ٹھیک سو ، دو سو سال بعد ہمارے آج کے دور کی تاریخ مرتب کرنے بیٹھیںگے۔ تو انکے پاس ذریعے کیا ہونگے۔ یہی ڈیجیٹل معلومات۔ یہ سوچنے والی بات ہے ۔ تو کیا وہ انٹرنیٹ پر موجود اس سیاسی شور ، اس بے بنیاد پروپیگنڈے اور اس غلط بیانی کو ہمارا اصل سچ مان لیں گے۔ کیا ہم جو آج دیکھ اور سن رہے ہیں وہی غلط معلومات ہماری آنیوالی نسلوں کے لیے تاریخی حقیقت بن جائے گی۔ یا پھر ہم سب مل کر جانے اور انجانے میں ایک ایسی تاریخ تخلیق کر رہے ہیں جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تاکہ انسانوں کے دماغوں پر کنٹرول حاصل کر کے حکمران طبقات ان پر اپنا ہزاروں سال پرانا تسلط برقرار رکھ سکیں۔ تو یہ ایک خوفناک سازش ہے جس سے دنیا بے خبر ہے۔ یہ واقعی ایک بے حد گہرا اور پریشان کن سوال ہے۔ اس پوری کتاب میں بدلتی ہوئی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے۔ سبق یہ ہے کہ کسی بھی لکھی ہوئی، سنی ہوئی یا اب اسکرین پر دیکھی ہوئی بات کو آنکھیں بند کر کے قبول نہ کیا جائے۔ سوال اٹھانا ضروری ہے۔ ہر بیانیہ کے پیچھے چھپی ہوئی طاقت اور مقصد پر سوال اٹھانا سیکھا جائے۔ کیونکہ ایک زندہ اور با شعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو ماضی کی بنیادوں کو سمجھتا ہے۔ اپنے تصورات کو پرکھتا ہے اور تنقیدی سوچ سے جھوٹ کا پردہ چاک کرتا ہے۔ بات بہت صاف ہے اگر ماضی کے ان لکھے گئے اور بولے گئے جھوٹوں پر سوال نہ اٹھایا جائے تو کوئی اور آپ کی نسلوں کے لیے ایک نئی جھوٹی داستان لکھ دے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل