Loading
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ آزادی محض سیاسی جلسوں، قراردادوں اور انتخابی معرکوں کی تاریخ نہیں؛ یہ دراصل ایک ایسی طویل فکری، تہذیبی، سیاسی اور اخلاقی جدوجہد کی داستان ہے جس میں قلم کاروں، علماء، سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، شعراء اور عوامی قائدین نے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔
اس تاریخ میں اگر کسی شخصیت نے قلم، زبان، سیاست، صحافت اور قربانی کو بیک وقت آزادی کے مقصد کے لیے استعمال کیا تو ان میں مولانا محمد علی جوہرؒ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
مولانا محمد علی جوہر صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے۔ وہ ایک صحافی، خطیب، شاعر، مفکر، تعلیمی رہنما اور آزادی کے ایسے بے باک سپاہی تھے جن کے نزدیک غلامی صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی عزت، دینی تشخص اور قومی خودداری کا مسئلہ بھی تھی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ قومیں صرف تلوار سے آزاد نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات ایک قلم، ایک اخبار، ایک تقریر اور ایک بے خوف آواز بھی سامراجی سلطنتوں کی بنیادیں ہلا دیتی ہے۔
10 دسمبر 1878 کو رام پور میں پیدا ہونے والے مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ اور بعد ازاں لنکن کالج آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ برصغیر واپس آنے کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت بھی اختیار کی، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ ان کی اصل منزل اقتدار کے ایوانوں میں ملازمت کرنا نہیں بلکہ اپنی قوم کے سیاسی اور فکری مستقبل کی تعمیر ہے۔ چنانچہ انہوں نے صحافت، سیاست اور قومی جدوجہد کو اپنا میدان بنایا۔ 4 جنوری 1931 کو لندن میں ان کا انتقال ہوا اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں بیت المقدس میں سپردِ خاک کیا گیا۔ پاکستانی سرکاری ذرائع انہیں تحریکِ پاکستان کے اہم رہنماؤں، صحافی اور شاعر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
یہ سوال آج بھی اہم ہے کہ رام پور میں پیدا ہونے والا ایک شخص برصغیر کے مسلمانوں کی اتنی بڑی آواز کیسے بن گیا؟ اس کا جواب مولانا جوہر کی شخصیت کے کئی پہلوؤں میں پوشیدہ ہے۔ وہ صرف حالات پر تبصرہ نہیں کرتے تھے بلکہ حالات کو بدلنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ صرف غلامی کی شکایت نہیں کرتے تھے بلکہ غلامی کے خلاف ذہن تیار کرتے تھے۔ وہ صرف سیاسی حقوق کی بات نہیں کرتے تھے بلکہ قوم کے اندر خود اعتمادی، خودداری اور دینی شعور پیدا کرنا چاہتے تھے۔ مولانا جوہر محض حق گو انسان نہیں بلکہ ایک ایسے صاحبِ عزم رہنما تھے جنہوں نے حق گوئی کو اپنی سیاسی زندگی کا اصول بنا لیا تھا۔
مولانا محمد علی جوہر کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک ان کی صحافتی جدوجہد تھی۔ انہوں نے 1911 میں انگریزی اخبار ’کامریڈ‘ اور 1913 میں اردو اخبار ’ہمدرد‘ جاری کیا۔ کامرید کے ذریعے وہ انگریزی خواں طبقے، ہندوستانی سیاسی حلقوں اور برطانوی رائے عامہ تک مسلمانوں اور ہندوستان کے سیاسی مسائل پہنچاتے تھے، جبکہ ہمدرد کے ذریعے وہ براہِ راست عام مسلمانوں کو سیاسی شعور دینے کی کوشش کرتے تھے۔ برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کے باعث کامریڈ کو پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہ صحافت محض خبر رسانی نہیں تھی؛ یہ سیاسی تربیت تھی۔
مولانا محمد علی جوہر سمجھتے تھے کہ غلام قوم کی پہلی ضرورت سیاسی شعور ہے۔ اگر عوام کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ان کے حقوق کیا ہیں، ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اور آزادی کی قیمت کیا ہے تو سیاسی تحریکیں دیرپا نہیں ہوسکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کامریڈ اور ہمدرد نے برصغیر میں ایک ایسے سیاسی ماحول کو تشکیل دینے میں مدد کی جس میں مسلمان محض رعایا نہیں بلکہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوچنے والی قوم بننے لگے۔
یہ نکتہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ تحریکِ پاکستان پہلے ایک سیاسی شعور بنی، پھر سیاسی تحریک اور بالآخر ایک تاریخی مطالبہ۔ مولانا محمد علی جوہر کی سیاسی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ان کی حق گوئی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی غلامی کا ایک انداز ہے۔ ان کے نزدیک سیاسی قیادت کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ قوم کے ضمیر کو زندہ رکھنا تھا۔ مولانا محمد علی جوہو کا یہ جملہ اس تصور کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے ’’میں سمجھتا ہوں کہ میرا مذہبی فرض ہے کہ اس کانفرنس میں شریک ہوں اور وہاں سلطانِ جابر اور رعایائے جائر دونوں کے سامنے کلمۂ حق کہہ کر سب سے افضل جہاد کروں، تا آں کہ اس کام میں مر جاؤں۔‘‘ یہ الفاظ اس وقت اور بھی زیادہ معنی خیز ہوجاتے ہیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ شدید علالت کے باوجود سیاسی جدوجہد سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جوہر کی سیاست میں حق، مذہب، آزادی اور خودداری ایک دوسرے سے الگ نہیں تھے۔
مولانا محمد علی جوہر کی زندگی کا آخری دور ان کے عزم کی ایک شاندار مثال ہے۔ 1930 میں گول میز کانفرنس کے لیے لندن جاتے وقت وہ شدید بیمار تھے۔ ان کی صحت اس قابل نہیں تھی کہ وہ طویل سیاسی جدوجہد کرسکیں، مگر انہوں نے اس شرکت کو اپنی ذمے داری سمجھا۔ وہ کانفرنس میں شرکت کو اپنا ’مذہبی فرض‘ سمجھتے تھے تاکہ وہاں جابر قوتوں کے سامنے کلمۂ حق کہہ سکیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب جوہر کی شخصیت ایک سیاست دان سے بڑھ کر ایک مزاحمتی علامت بن گئی۔
’اگر آزادی نہیں دے سکتے تو مجھے قبر کی جگہ دینی ہوگی‘ مولانا محمد علی جوہر سے منسوب سب سے مشہور سیاسی جملوں میں سے ایک ان کی لندن میں آزادی کے مطالبے سے متعلق ہے۔ ان کی وفات 4 جنوری 1931 کو لندن میں ہوئی اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں بیت المقدس میں دفن کیا گیا۔ ایک انسان جس نے اپنی زندگی آزادی کے لیے وقف کی، اس نے اپنی آخری آرام گاہ بھی اس سرزمین میں منتخب کی جو اس کے دل میں اسلامی تاریخ اور تہذیب کی علامت تھی۔
مولانا محمد علی جوہر اور تحریکِ پاکستان یہاں ایک اہم تاریخی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مولانا محمد علی جوہر کو تحریکِ پاکستان کا رہنما کہا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات کے بجائے تاریخ کے تناظر میں دینا چاہیے۔ مولانا محمد علی جوہر 1931 میں وفات پاگئے، جبکہ قراردادِ لاہور 1940 میں منظور ہوئی اور قیامِ پاکستان 1947 میں عمل میں آیا۔ اس لیے وہ ان واقعات میں براہِ راست شریک نہیں ہوسکتے تھے۔ لیکن تاریخ صرف آخری قراردادوں اور آخری برسوں کا نام نہیں۔ تحریکیں کئی دہائیوں پر محیط فکری اور سیاسی عمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مولانا جوہر نے مسلمانانِ ہند میں سیاسی شعور پیدا کرنے، مسلمانوں کی جداگانہ سیاسی حیثیت کو اجاگر کرنے، برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت، مسلم سیاسی حقوق کے تحفظ اور آزادی کی جدوجہد میں جو کردار ادا کیا، اس نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم فکری سرمایہ چھوڑا۔
پاکستانی سرکاری ذرائع آج بھی انہیں تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں میں شمار کرتے ہیں اور جداگانہ وطن کے مضبوط حامی کے طور پر ان کا ذکر کرتے ہیں۔ لہٰذا زیادہ محتاط اور تاریخی طور پر درست تعبیر یہ ہے کہ: مولانا محمد علی جوہر تحریکِ پاکستان کے براہِ راست آخری مرحلے کے رہنما نہیں بلکہ اس فکری، سیاسی اور صحافتی جدوجہد کے اہم معماروں میں سے تھے جس نے بعد میں تحریکِ پاکستان کے لیے سیاسی شعور پیدا کیا۔
جوہر کے لیے مسلمان ہونا صرف ایک شناخت نہیں بلکہ ذمے داری، قربانی اور حق گوئی کا نام تھا۔ پاکستان کی آزادی کی داستان میں مولانا محمد علی جوہر کا مقام اسی لیے اہم ہے کہ وہ اس سفر کے ان ابتدائی معماروں میں شامل تھے جنہوں نے مسلمانانِ ہند کے ذہن میں آزادی، خودداری، سیاسی شعور اور اجتماعی تشخص کی شمع روشن کی۔ ان کی زندگی کا پیغام آج بھی یہی ہے، غلامی کو معمول نہ بناؤ، حق کو پہچانو، علم حاصل کرو، اپنے تشخص پر قائم رہو اور ظلم کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا حوصلہ پیدا کرو۔ اور شاید جوہر کے لیے اس سے بہتر خراجِ عقیدت کوئی نہیں ہوسکتا کہ ہم ان کے خواب کو صرف تقریروں میں نہ دہرائیں بلکہ اسے اپنے کردار میں زندہ کریں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل