Loading
بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کے لیے مفت آن لائن کوچنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
15 اگست کو بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر نئی دہلی کے تاریخی لال قلعے سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ حکومت مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے نوجوانوں کو مفت آن لائن کلاسز فراہم کرے گی۔
مودی کے بقول اس اقدام کا مقصد طلبہ اور ان کے خاندانوں پر کوچنگ فیس کا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
بھارت میں سرکاری ملازمتوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے سخت مقابلے کے باعث طلبہ بڑی تعداد میں نجی کوچنگ اداروں کا رخ کرتے ہیں جس پر خاندانوں کو بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
امتحانی پرچوں کے معاملے پر احتجاج
بھارت میں حالیہ عرصے کے دوران امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک اور بھرتیوں سے متعلق مختلف تنازعات نے نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کی۔ ان معاملات کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
ان مظاہروں کے نتیجے میں بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے امتحانی نظام میں شفافیت، روزگار کے بہتر مواقع اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کا مطالبہ کیا تھا۔
ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت
نریندر مودی نے اپنی تقریر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی بڑا منصوبہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ایک سال کے دوران ایک کروڑ یعنی ایک کروڑ نوجوانوں کو اے آئی کی مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی کی تربیت نوجوانوں کے لیے روزگار اور مستقبل کے مواقع میں اضافہ کرسکتی ہے۔
کوچنگ کے بڑھتے اخراجات کم کرنے کی کوشش
بھارت میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے نجی کوچنگ ایک بڑی صنعت بن چکی ہے۔ بہت سے طلبہ کئی برس تک مختلف امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، جس کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں پر اضافی مالی دباؤ پڑتا ہے۔
مودی نے کہا کہ آن لائن مفت کوچنگ سے طلبہ کو اپنے گھروں کے قریب رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا اور خاندانوں کو مہنگی کوچنگ کے اخراجات سے کچھ ریلیف مل سکے گا۔
حکومت کی جانب سے یہ اعلانات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب نوجوانوں کے احتجاج نے بھارت کے تعلیمی اور بھرتی کے نظام میں موجود مسائل کو نمایاں کیا ہے۔ حکومت نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی روک تھام کے لیے سزاؤں میں اضافے سمیت دیگر اقدامات بھی کیے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل