Saturday, August 15, 2026
 

منزل کیوں نہیں آئی؟

 



ہر سال کی طرح یہ 14اگست بھی شان بان سے گزرا، سرکاری عمارتوں پر پرچموں اور روشنیوں کی سجاوٹ، ٹی وی پر ملی نغموں اور کامیابیوں کا شہرہ، سرکاری اور نجی اداروں میں پرچم کشائیوں کا سہرا، سڑکوں پرجذبات کا شور شرابہ۔ اب یہی یوم آزادی کی رسم اور دستور رائج ہے۔ رنگ و نور، جذباتی نعرے اور بیانات اپنی جگہ ، آٹھ دہائیوں کا سفر طے کرنے پر صرف شادمانی کا مظاہرہ کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم کچھ دیر اپنے سیاسی، آئینی اور معاشی حالات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے بے لاگ جائزہ لیں۔ ایمانداری سے اپنا احتساب کریں تو یہ تلخ حقیقت چھپائے نہیں چھپتی کہ آزادی کی شروعات میں ہم نے جو خواب دیکھے تھے، آج زمینی اور معاشی حقائق ان سے بہت مختلف ہیں۔ ہماری قومی تاریخ کا ایک بنیادی المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے طویل المدت ریاستی و معاشی فیصلوں کو ہمیشہ عارضی سیاسی فائدوں، ذاتی مفادات اور دیدہ و نادیدہ سیکیورٹی خدشات کی قربان گاہ پر چڑھایا۔ نتیجتاً ملک ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران کی دلدل میں گرتا رہا۔ ہماری قومی پالیسیوں میں کبھی وہ استحکام اور تسلسل پیدا نہ ہو سکا جو قوم کو مضبوطی سے جوڑنے اور معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے بنیادی شرط ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہم نے انتہائی کٹھن حالات میں سفر کا آغاز کیا تھا۔ ہمارے حصے میں نہ کوئی بڑا صنعتی ڈھانچہ آیا تھا اور نہ ہی مستحکم مالیاتی خزانہ موجود تھا، جبکہ دوسری جانب لاکھوں بے گھر مہاجرین کی آباد کاری کا بوجھ نوزائیدہ ریاست کے سر پر تھا۔ اس مالی و معاشی تنگی سے بھی بڑا المیہ یہ ہوا کہ ہم ملک کے ابتدائی نو سالوں میں ایک متفقہ آئین تک نہ بنا سکے۔ اس طویل آئینی خلا نے ملک کی تعمیر میں خرابی کی وہ صورت مضمر کردی جس نے جمہوریت اور پارلیمان کو جڑیں پکڑنے نہ دیں اور تمام تر اختیارات سول بیوروکریسی، عدالتی نظریہ ضرورت اور غیر سیاسی قوتوں کی گود میں ڈال دیے۔ اس اندازِ حکمرانی، مرکزیت پسند سوچ اور معاشی ناانصافیوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان بے اعتمادی کی دراڑیں ڈال دیں۔ 1970ء کے عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا گیا تو سیاسی بداعتمادی کا یہ لاوا آخرکار سقوطِ ڈھاکہ پر منتج ہوا۔ 1971ء کا المیہ آج بھی یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ آئینی عملداری، یکساں حقوق اور باہمی احترام کے بغیر کوئی بھی وفاق قائم نہیں رہ سکتا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ہم نے 1973ء کا متفقہ آئین بنا کر ایک نئی شروعات کی کوشش تو کی، لیکن جلد ہی سیاسی محاذ آرائیوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اسی دوران نئی معاشی مہم جوئی میں بینکوں، تعلیمی اداروں اور بھاری صنعتوں کو قومیانے (Nationalization) کے فیصلہ نے نجی سرمایہ کاروں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ستم بالائے ستم متفقہ آئین کی حکمرانی سے گریز پائی کے مظاہر بھٹو دور میں ہی شروع ہو گئے۔ سیاسی بیداری ، زبردست عوامی تحرک اور سفارتی معرکہ آرائیوں کے باوجود 1977 کے انتخابات کے بعد جمہوری نظام ذوالفقار بھٹو بلکہ سیاستدان کے ہاتھ سے بھی جاتا رہا۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کو جلد ہی افغان جنگ نے سہارا دیا۔ ڈالروں اور غیر ملکی امداد کا غیر متوقع سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس عارضی اور مصنوعی معاشی سہارے کی معاشرے نے انتہا پسندی، فرقہ واریت اور کلاشنکوف کلچر کی صورت میں بھاری قیمت ادا کی۔ 1990ء کی دہائی سیاسی دنگل اور انتقامی کارروائیوں کی نذر ہو گئی۔ آرٹیکل 58(2b) کی تلوار سے حکومتیں بار بار بنائی اور توڑی جاتی رہیں، جس کی وجہ سے کوئی سیاسی و معاشی پالیسی جڑ نہ پکڑ سکی۔ 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے بعد عائد ہونے والی اقتصادی پابندیاں، کارگل معرکہ اور پھر 1999ء کا مارشل لا، ان پے در پے واقعات نے ملک کے سیاسی نظام اور معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ جنرل مشرف کے دور میں نائن الیون کے بعد ایک بار پھر امریکی امداد اور قرضوں کی ری شیڈولنگ کا سہارا میسر آیا۔ ملک میں کریڈٹ کارڈز، درآمدی گاڑیوں اور موبائل فونز کی یلغار سے ترقی کی مصنوعی چکا چوند تو ہوئی، لیکن یہ ساری رونق درآمدات اور غیر ملکی قرضوں پر کھڑی تھی۔ زرمبادلہ کی غیر معمولی آسودگی اور موافق عالمی تجارتی اسباب کے باوجود بنیادی اصلاحات، معاشی بنیادیں مضبوط کرنے، نئی انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانے پر ذرا بھی توجہ نہ دی، جس کا نتیجہ بعد میں شدید مالیاتی بحران کی صورت میں نکلا۔ 2008ء کے بعد جمہوریت واپس آئی تو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مالی و انتظامی خودمختاری دی گئی۔ یہ ایک ضروری اور دیر آید آئینی قدم تھا، لیکن جس کایاں انداز سے سیاسی فائدے کے لئے اس کے خدو خال تشکیل دیے اور قبول کئے گئے، اس کے بعد وفاق شدید مالی خسارے کا شکار ہو گیا، تمام بڑے اخراجات وفاق کے پاس رہ گئے اور آمدنی کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہو گیا۔ ان وسائل سے صوبوں نے نچلی سطح پر مقامی حکومتوں کو ان کا جائز حصہ منتقل کرنے کی بجائے کسی نہ کسی بہانے بالعموم اپنا تسلط جمائے رکھا۔ دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں ہم نے ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زیادہ کا براہِ راست معاشی نقصان اٹھایا اور ہزاروں جانیں قربان کیں۔ اس دوران جاری شدید سیاسی کھینچا تانی اور عدالتی تحرک سے پیدا بے یقینی اور عدم استحکام نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح مجروح کیا۔ یہ رولر کوسٹر اگلے دو انتخابات اور عدم اعتماد کے ہچکولوں کے بعد ابھی سفر میں ہے۔ آج معیشت کا حجم بظاہر 452 ارب ڈالر کے قریب ہے، لیکن 137 ارب ڈالر سے زیادہ کا غیر ملکی قرضہ سوہان روح ہے۔ کل قومی آمدنی کاایک بڑا حصہ صرف قرضوں کا سود ادا کرنے اور پرانے قرضے اتارنے میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ملک کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے ہمارے پاس مناسب فنڈز موجود نہیں ہیں۔ انسانی ترقی کے عالمی اشاریے (HDI) میں ہم 168 ویں نمبر پر نیچے گر چکے ہیں۔ خطے میں بھارت اور افغانستان سے تجارت معطل ہونے کی وجہ سے علاقائی تجارت معطل اور برآمدات جمود کا شکار ہیں، ملک کی آبادی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے جبکہ ملکی معیشت پچھلے چار سال سے بمشکل ساڑھے تین فی صد کے لگ بھگ لڑھک رہی ہے۔ لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان نوکریوں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔ بے یقینی اور مایوسی کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لے رہے۔ آج اپنی آزادی کے 79 سال پورے کر نے پر ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پرانے طریقوں، نعروں اور بیرونی امداد کے سہارے اب ملک نہیں چل سکتا۔ اگر ہم نے 2047ء میں اپنی آزادی کی صد سالہ سفر ایک باوقار اور معاشی طور پر خود مختار قوم کے طور پر منانا ہے تو تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں اور اداروں کو اپنی ضد چھوڑ کر ایک جگہ بیٹھنا ہوگا۔ باہمی لڑائیوں کو بھول کر ایک پائیدار ’’میثاقِ۔سیاست و معیشت‘‘ بنانا ہوگا، اپنے ٹیکس کے نظام کو شفاف کرنا ہوگا اور اپنے نوجوانوں کوجدید تعلیم اور ہنر دینا ہوگا۔ بنیادی اصلاحات کے بغیر ترقی کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل