Loading
این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز، برف پگھلنے، سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کا الرٹ جاری کردیا۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ 17 تا 23 اگست گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز اور برف پگھلنے، بڑھتے ہوئے در حرارت اور مون سون بارشوں کے باعث، اچانک سیلاب اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان کے علاقوں غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، تانگیر، داریل، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے، کھرمنگ، وادی نیلم اور ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط کی ہدایت کی۔
الرٹ میں بدسوات، اشکومن، ہنارچی، ترسات ہندور، التر، چینٹر، گوپس، یاسین، سوست، ارندو، روشن، حاکس، چتی بوئی، تھلو 1 و 2، ریشون، بریپ، بونی، سردار گول، لشت، پنڈورو چاٹ، کھپلو، ہسپر ہوپر، گلگت، گلمن، بتورا، ششپر، سونگھور، روشن اور شمشال کے علاقوں کو حساس قرار دیا جبکہ این سی او سی کی جانب سے گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ بھی جاری کردیا۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ 22 تا 24 اگست گلگت بلتستان کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کا خدشہ ہے، ہنزہ میں حسن آباد، مرتضیٰ آباد، عطاآباد، ششکٹ، گلمن، گلمیت، گُلکن، حسین آباد، پاسو اور خیبر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ نگر میں ہوپر، کنجوکشال، گُتاس، سمیار، میاچار، پسن، مناپن، غلمت، تھول نلت اور ہسپر میں لینڈ سلائیڈنگ متوقع ہے، استور میں ترشنگ، رُپل ویلی اور ترشنگ رُپل روڈ؛ دیامر میں رائیکوٹ تا ٹاٹو کوریڈور، فیری میڈوز روڈ، تھلیچی تا جلی پور اور نانگا پربت کے شمالی و شمال مغربی پہاڑی ڈھلوانیں، جبکہ اسکردو روڈ پر RD-20 تا RD-80 خصوصی طور پر لینڈ سلائیڈ کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ حساس پہاڑی سڑکوں، شاہراہ قراقرم اور حساس وادیوں میں پتھر گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بند، آمدورفت متاثر اور آبادیوں کا رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ 17 سے 21 اگست تک بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، پنجاب کے بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش متوقع ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ نارووال، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، لاہور، قصور، فیصل آباد، چنیوٹ اور اٹک کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ 17 سے 21 اگست تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش متوقع ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے، پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب اور برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، باجوڑ، ملاکنڈ، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مہمند، کرم، ہنگو، جنوبی وزیرستان، کرک اور لکی مروت کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
الرٹ مین دریائے کابل کے معاون دریاؤں میں بھی اچانک تیز بہاؤ کا خدشہ، آزاد کشمیر کے باغ، حویلی، پونچھ، ہٹیاں، سدھنوتی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر جبکہ گلگت بلتستان کے ہنزہ اور استور بھی سیلابی خدشے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا الرٹ بھی جاری کردیا گیا جس کے مطابق بالائی علاقوں، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کشمیر اور پنجاب میں موجودہ مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان جبکہ تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو؛ دریائے جہلم میں منگلا کے بالائی علاقوں، دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آبادکے مقام پر درمیانے درجے کا بہاؤ متوقع ہے، اس کے علاوہ دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کی صورتحال متوقع ہے۔
دریائے راوی اور چناب سے منسلک نالوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی ٹیمیں، ضروری ریسکیو وسائل کو تیار رکھنے، حساس آبادیوں کے لیے انخلا کے راستے اور محفوظ مقامات کی نشاندہی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
اس کے علاوہ عوام کیلیے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ گلیشیئرز، گلیشیئر سے آنے والے دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک مقامات کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی غیر معمولی پانی کے بہاؤ یا سطح میں اچانک اضافے کی فوری اطلاع دیں۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو ممکنہ طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل