Monday, August 17, 2026
 

اٹلی؛ سسلی کے میوزیم سے 15ویں صدی کے نایاب شاہکار چوری

 



اٹلی کے جزیرے سسلی کے شہر میسینا میں قائم ایک میوزیم سے نشاۃ ثانیہ کے معروف مصور انٹونیلو دا میسینا کے چار قیمتی فن پارے چوری ہوگئے جن میں ان کے مشہور شاہکار پولیٹیکو دی سان گریگوریو کے تین پینلز بھی شامل ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق واردات ہفتے کی شام میسینا کے ریجنل میوزیم ’’میو می‘‘ میں ہوئی جہاں نامعلوم چور سکیورٹی انتظامات کو عبور کرکے ایک محفوظ ڈسپلے کیس تک پہنچے اور اس میں رکھے لکڑی کے پینلز لے گئے۔ واردات کے بعد اطالوی حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور میوزیم کے سکیورٹی نظام کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ یہ معلوم کرنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے کہ چور عمارت میں کس راستے سے داخل ہوئے، محفوظ ڈسپلے کیس تک کیسے پہنچے اور قیمتی پینلز کو وہاں سے باہر لے جانے میں انہیں کس طرح کامیابی ملی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چوروں نے ممکنہ طور پر شہر میں جاری مذہبی تقریبات اور 15 اگست کی قومی تعطیل فیرراگوستو کے باعث پیدا ہونے والی غیر معمولی مصروفیت سے فائدہ اٹھایا۔ میسینا میں ان دنوں روایتی مذہبی تہوار ’’لا وارا‘‘ کی تقریبات بھی جاری تھیں جس کے باعث شہر میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تفتیش کار اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ چوروں نے اسی ہجوم اور تہوار کی سرگرمیوں کے دوران میوزیم کی نگرانی میں پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھایا۔ چوری کیے گئے چاروں فن پارے انٹونیلو دا میسینا سے منسوب 15ویں صدی کے اہم کاموں میں شمار ہوتے ہیں۔ان میں پولیٹیکو دی سان گریگوریو کے باقی رہ جانے والے پانچ پینلز میں سے تین شامل ہیں۔ یہ فن پارہ انٹونیلو دا میسینا کے نمایاں ترین مذہبی کاموں میں شمار ہوتا ہے اور سسلی کے فنّی ورثے میں خصوصی مقام رکھتا ہے۔انٹونیلو دا میسینا کو اٹلی کے ابتدائی نشاۃ ثانیہ کے اہم مصوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی پینٹنگز میں مذہبی موضوعات کے ساتھ انسانی چہروں اور تاثرات کی باریک عکاسی نمایاں خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔ میو می کی ڈائریکٹر ماریسا مرکیوری نے واردات کو انتہائی سنگین نقصان قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوری ہونے والی پینٹنگز صرف میسینا کے لیے نہیں بلکہ پورے سسلی کے تاریخی، ثقافتی اور فنی ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جلد ہی چوری شدہ فن پاروں کا سراغ لگا کر انہیں واپس حاصل کرلیں گے۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل